سورة الاعراف - آیت 36

وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا اور ان سے اکڑ بیٹھے تو ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 36 جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال دیا تو ان کو رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے آزمایا۔ یہ رسول ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور اس کے احکام ان پر واضح کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی فضیلت بیان فرمائی جس نے رسولوں کی دعوت پر لبیک کہا اور اس شخص کا خسارہ بیان کیا جس نے رسولوں کی دعوت کا جواب نہ دیا۔ چنانچہ فرمایا : (فمن اثقی) ” پس جس شخص نے تقویٰ اختیار کیا۔“ یعنی جو ان امور سے بچ گیا جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے مثلاً شرک اور دیگر کبیرہ اور صغیرہ گناہ (واصلح) ” اور اس نے (ظاہری اور باطنی اعمال کی) اصلاح کرلی۔“ (فلا خوف علیھم) ” تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا۔“ یعنی وہ اس شر کے خوف سے مامون ہوں گے جس سے دیگر لوگ خوفزدہ ہوں گے۔ (ولا ھم یحزنون) ” اور نہ وہ (گزرے ہوئے واقعات پر) غمگین ہوں گے۔“ جب ان سے حزن و خوف کی نفی ہوگئی تو انہیں کامل امن اور ابدی فلاح و سعادت حاصل ہوگئی۔ (والذین کذبوا با یتنا واستکبروا عنھا) ” اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا“ یعنی ان آیات پر ان کے دل ایمان لائے نہ ان کے جوارح نے ان آیات کے احکام کی اطاعت کی۔ (اولئک اصحب النارھم فیھا خلدون) ” وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ یعنی جس طرح انہوں نے ہماری آیات کی اہانت کی اور ان کی تکذیب پر جمے رہے، اسی طرح ان کو ہمیشہ رہنے والے عذاب کے ذریعے سے رسوا کیا جائے گا۔