سورة الاعراف - آیت 19

وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور اے آدم! تو اور تیری بیوی دونوں [١٦] اس جنت میں رہو اور جہاں سے جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاؤ گے''

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 19 یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لئے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے (فتکونا من الظلمین) ” تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہوجاؤ گے“ آدم اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کردیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا : (ما نھکما ربکم عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین) ” تم کو نہیں روکا تمہارے رب نے اس درخت سے، مگر اس لئے کہ کہیں تم ہوجاؤ فرشتے“ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے (اوتکون امن الخلین) ” یا ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں اسکا قول ذکر فرمایا : (ھل ادلک علی شجرۃ الخلد و ملک لایبلی) (طہ :120/20) ” کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔ “ یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا : (انی لکما لمن النصحین) ” میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔“ یعنی میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمہاری خیر خواہی کرنے والا ہوں۔ پس آدم شیطان کے دھوکے میں آگئے اور اس حال میں عقل پر شہوت نفس غالب آگئی۔ (فذ لھما) ” پس نیچے لے آیا ان دونوں کو“ یعنی شیطان نے آدم و حوا کو ان کے بلند مرتبے سے، جو کہ گناہوں سے دوری پر مبنی تھا، اتار کر نافرمانی کی گندگی میں لتھیڑ دیا اور انہوں نے آگے بڑھ کر سا شجر ممنوعہ کے پھل کو کھالیا (فلما ذاقا الشجرۃ بدت لھما سواتھما) ” پس جب چکھا ان دونوں نے درخت کو، تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں“ یعنی دونوں کا ستر ظاہر ہوگیا اس یس پہلے ان کا ستر چھپا ہوا تھا۔ پس اس حالت میں تقویٰ سے باطنی عریانی نے ظاہری لباس میں اپنا اثر دکھایا۔ حتی کہ وہ لباس اتر گیا اور ان کا ستر ظاہر ہوگیا اور جب ان پر ان کا ستر ظاہر ہوا تو وہ بہت شرمسار ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔ (ونادھما ربھما) اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے آواز دی (الم انھکما عن تلکما الشجرۃ و اقل لکا ان الشیطان لکھا عدومبین) ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمہیں کہا نہیں تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے“ پھر تم نے اپنے دشمن کی اطاعت کر کے ممنوعہ کام کا ارتکاب کیوں کیا؟ پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر احسان کیا اور انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے عرض کیا۔ (ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخسرین) ” اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔“ یعنی ہم سے وہ گناہ سر زد ہوگیا جس سے تو نے ہمیں روکا تھا۔ ہم نے گناہ کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو سخت نقصان پہنچایا اور اگر تو نے گناہ اور اس کی عقوبت کے آثار کو نہ مٹایا اور اس قسم کی خطاؤں سے توبہ قبول کر کے معافی کے ذریعے سے ہم پر رحم نہ کیا، تو ہم نے سخت خسارے کا کام کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی (وعصی ادم ربہ فغوی، ثم اجتبہ ربہ فتاب علیہ وھدی) (طہ :122,121/20) ” اور آدم نے اپنے رب کی نافرماین کی اور راہ سے بھٹک گیا۔ پھر اس کے رب نے اس پر نوازش کی اور اس پر توجہ فرمائی اور راہنمائی کی۔ “ یہ رویہ آدم کا تھا۔ مگر اس کے برعکس ابلیس اپنی سرکشی پر جما رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو کوئی آدم کی طرح اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ندامت کے ساتھ غفرت کا سوال کرتا ہے اور گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا رب اسے چن لیتا ہے اور سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے اور جو کوئی ابلیس کی طرح اپنے گناہ اور نافرمانی پر جم جاتا ہے اور اس کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔