سورة الاعراف - آیت 11

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنائی۔[٩] پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ ابلیس [١٠] نے سجدہ نہ کیا۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 11 اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : (ولقد خلقنکم) ” اور ہم نے تمہیں پیدا کیا“ یعنی تمہارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب پیدا کئے گئے (ثم صورنکم) ” پھر تمہاری صورت شکل بنائی۔“ پھر ہم نے تمہیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی (فسجدوآ) ” پس انہوں نے سجدہ کیا۔“ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا (الا ابلیس) مگر ابلیس نے تکبر اور خودپسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا : (مامنعک الا تسجد) ” تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا“ جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا، میں نے اسے وہ شرف اور فضیلت عطا کی جو کسی اور کعطا نہیں کی، تو نے میرے حکم کی نافرمانی کر کے میری اہانت اور تحقیر کا ارتکاب کیا (قال) ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا : (انا خیر منہ) ” میں اس سے بہتر ہوں“ پھر اس نے اپنے اس باطل دعوے کی دلیل دیتے ہوئے کہا : (خلقتنی من نار وخلقتہ من طین) ” تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے“ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ وہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے اس مخلوق سے افضل ہ، جس کی تخلیق مٹی سے ہے۔ کیونکہ آگ مٹی پر غالب ہے اور اوپر اٹھ سکتی ہے۔ شیطان کا یہ قیاس فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔ (١) یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔ (١) یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔ (٢) ابلیس کا مجردیہ کہنا (انا خیرمنہ) ” میں اس (آدم) سے بہتر ہوں“ ابلیس خبیث کے نقص کے لئے کافی ہے۔ اس نے اپنے نقص پر اپنی خودپسندی، تکبر اور بلاعلم اللہ تعالیٰ کی طرف قول منسوب کرنے کو دلیل بنایا اس سے بڑا اور کون سا نقص ہوسکتا ہے؟ (٣) ابلیس نے آگ کو مٹی اور گارے کے مادہ پر فوقیت دے کر جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ مٹی کے مادے میں خشوع، سکون اور سنجیدگی ہے۔ اس میٹی ہی سے زمین کی برکتیں ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً مختلف انواع و اجناس کے درخت اور نباتات وغیرہ۔ اس کے برعکس آگ میں خفت، طیش اور جلانے کی خاصیت ہے۔ اسی لئے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لئے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا (فھبط منھا) ” تو اس سے اترجا۔“ یعنی جنت سے اتر جا (فمایکون لک ان تتکبر فیھا) ” تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں) رہ کر تکبر کرے“ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں۔ (فاخرج انک من الصغرین) ” پس نکل جا تو ذلیل ہے۔“ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔ جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا، تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لئے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کرسکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہوجائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوجائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا : (انک من المنظرین) ” تجھ کو مہلت دی گئی“