سورة الانعام - آیت 165

وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں نائب بنایا [١٩٠] اور ایک کے مقابلے میں دوسرے کے درجے [١٩١] بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دے رکھا ہے اسی میں تمہاری [١٩٢] آزمائش کرے۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار سزا دینے میں دیر نہیں لگاتا اور (ساتھ ہی ساتھ) وہ یقینا بخشنے والا اور مہربان بھی ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 165 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے کہ وہ جس راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں اس کے بارے میں اعلان کردیں یعنی معتدل دین کا جو عقائد نافعہ، اعمال صالحہ، ہر اچھی بات کے حکم اور ہر بری بات سے ممانعت کو متضمن ہے۔ یہ وہ دین ہے جس پر تمام انبیاء و مرسلین عمل پیرا رہے، جو خاص طور پر امام الحنفاء، بعد میں بمعوث ہونے والے تمام انبیاء و مرسلین کے باپ اور اللہ رحمٰن کے خلیل ابراہیم کا دین تھا۔ یہی وہ دین حنیف ہے جو تمام اہل انحراف مثلاً یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ادیان باطلہ سے روگردانی کو متضمن ہے۔ یہ عمومی ذکر ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے افضل ترین عبادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (قل ان صلاتی و نسکی) ” کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی“ ان دو عبادات کا ذکر ان کے فضل و شرف اور اس بنا پر کیا ہے کہ یہ دونوں عبادات اللہ تعالیٰ سے محبت، دین کو اس کے لئے خلا کرنے، قلب و لسان، جوارح اور قربانی کے ذریعے سے اس کے تقرب کے حصول پر دلالت کرتی ہیں اور قربانی سے مراد ہے کہ مال وغیرہ کو جو نفس کو محبوب ہے، اس ہستی کے لئے خرچ کرنا جو اس کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ جس نے اپنی نماز اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرلیا تو یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ اس نے اپنے تمام اعمال و اقوال کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرلیا۔ (ومحیای ومماتی) ” اور میرا جینا اور میرا مرنا۔“ یعنی میں جو کچھ اپنی زندگی میں کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے ساتھ کرتا ہے اور زمانہ موت میں اللہ تعالیٰ میرے لئے جو کچھ مقدر کرے گا (للہ رب العلمین، لاشریک لہ) ” سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اقتدار اور تدبیر میں۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے یہ اخلاص کوئی نئی اور انوکھیچیز نہیں جو میں نے خود گھڑ لی ہو، بلکہ (وبذالک امرت) ” اور مجھے اسی (اخلاص) کا حکم دیا گیا ہے۔“ یعنی حتمی حکم اور اس حکم کی تعمیل کئے بغیر میں اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا (وانا اول المسلمین) ” اور میں سب سے اول فرماں بردار ہوں۔“ یعنی اس امت میں، پہلا مسلمان ہوں۔ (قل اغیر اللہ) ” کہہ دیجیے“ کیا اب میں اللہ کے سوا“ یعنی مخلوق میں سے (ابغی ربا) ” تلاش کروں کوئی رب؟“ کیا یہ میرے لئے اچھا اور میرے لائق ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا رب اور مدبر بنا لوں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے اور تمام مخلوق اس کی ربوبیت کے تحت داخل اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے۔ پس مجھ پر اور دیگر لوگوں پر یہ بات واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کریں اور اسپر راضی رہیں۔ محتاج، عاجز اور مربوب مخلوق میں سے کسی رب نہ بنائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ جزا اور سزا کی ترغیب و ترہیب کے لئے فرماتا ہے (ولا تکسب کل نفس) ” اور جو کوئی کماتا ہے“ یعنی ہر شخص خیر و شر کا جو ارتکاب کرتا ہے (الا علیھا) ” اس کی جزا و سزا صرف اسی کے لئے ہے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (من عمل صالحاً فلنفسہ ومن اسآء فعلیھا) (حم السجدہ :36/31) ” جو کوئی نیک کام کرتا ہے اس کی جزا اسی کے لئے ہے اور جو برا کام کرتا ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔ “ (ولا تزر وازرۃ وزراخری ) ” کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ بلکہ ہر شخص اپنا بوجھ خود اٹھائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی گمراہی اور اس کے گناہ کا سبب بنا تو اسے سبب بننے کے گناہ کا بوجھ اٹھانا ہوگا اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ (ثم الی ربکم مرجعکم) ” پھر تمہارے رب کی پاس ہی سب کو لوٹ کر جانا ہے“ یعنی قیامت کے روز (فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون) ” تو جن جن باتوں میں تم اتخلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔‘ یعنی خیر و شر میں جو تم اختلاف کرتے ہو، اس کے بارے میں تمہیں آگاہ کرے گا اور تمہیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔ (وھو الذی جعلکم خلئف الارض) ” اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا۔“ یعنی تم ایک دوسرے کے جانشین بنتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا اور زمین کی تمام موجودات کو تمہارے لئے مسخر کر کے تمہیں آزمایا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (ورفع بعضکم فوق بعض درجت) ” اور بلند کیا اس نے تمہیں درجوں میں ایک کو ایک پر“ یعنی قوت، عافیت، رزق خلقت اور خلق میں ایک دوسرے پر فوقیت عطا کی (لیبلوکم فی مآ اتکم) ” تاکہ تمہیں آزمائے وہ ان چیزوں میں جو اس نے تمہیں دیں۔“ پس تمہارے اعمال ایک دوسرے سے متفاوت ہیں (ان ربک سریع العقاب) ” تمہارا رب ان لوگوں کو بہت جلد سزا دینے والا ہے۔“ ان کو جو اس کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں (وانہ لغفور رحیم) ” اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ ان لوگوں کے لئے جو اس پر ایمان لاتے ہیں، نیک عمل کرتے ہیں اور مہلک گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔