سورة الانعام - آیت 159

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ [١٨٢] ڈالا اور کئی فرقے بن گئے، ان سے آپ کو کچھ سروکار نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ پھر وہ خود ہی انہیں بتلا دے گا کہ وہ کن کاموں میں لگے ہوئے تھے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 159 (١) صحیح بخاری، کتاب الرفاق، باب، حدیث :65/6 اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو عید سناتا ہے جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لئے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسییا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنہوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کرلیا ہے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے اور تفرقہ بازی اور اہل دین میں اور تمام اصولی و فروعی مسائل میں اختلاف پیدا کرنے سے روکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا آپ ان لوگوں سے برأت کا اظہار کریں جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ (لست منھم فی شیء ) ” ان سے آپ کو کچھ کام نہیں۔“ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے ہیں نہ وہ آپ میں سے۔ کیونکہ انہوں نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے عناد رکھا۔ (انما امرھم الی اللہ) ” ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔“ یعنی ان کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا (ثم ینبءھم بما کانوا یفعلون) ” پھر وہ (اللہ) ان کو ان کے افعال سے آگاہ کرے گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے جزا کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : (من جآء بالحسنۃ) ” جو کوئی نیکی لے کر آئے گا۔“ یعنی جو کوئی حقوق اللہ اور حقوق اعلباد سے متعلق قولی، فعلی، ظاہری اور باطنی نیکی لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوتا ہے (فلہ عشر امثالھا) ” تو اس کے لئے اس کا دس گنا ہے‘ نیکیوں کو کئی گنا کرنے کے ضمن میں یہ کم ترین جزاے (ومن جآء بالسیءۃ فلا یجزی الا مثلھا) ” اور جو کوئ لاتا ہے ایک برائی، سو سزا پائے گا اسی کے برابر“ یہ اللہ تعالیٰ کا مل عدل و احسان ہے اور وہ ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ بنا بریں فرمایا (وھم لا یظلمون) ” ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “