سورة الانعام - آیت 152

وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نیز یہ کہ یتیم کے مال کے قریب [١٧١] بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو (اس کے حق میں) بہتر ہو۔ تاآنکہ وہ عقل کی پختگی کو پہنچ جائے، اور یہ کہ ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا پورا [١٧٢] دو، ہم کسی کو اس کے مقدور سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ اور یہ کہ جب کچھ کہو تو انصاف سے [١٧٣] کہو، خواہ وہ بات تمہارے کسی قریبی سے تعلق رکھتی ہو، اور یہ کہ اللہ کے عہد کو پورا [١٧٤] کرو۔ یہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں حکم دیا [١٧٥] ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 152 (ثم) ” پھر“ اس مقام پر (ثم) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰ کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ (اتینا موسیٰ الکتب) ” موسیٰ) کو کتاب عنایت کی“ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تو رات ہے (تماماً) اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لئے (علی الذی احسن) ” ان پر جو نیکو کار ہیں۔“ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لئے جنہوں نے نیک کام کئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکو کاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہوگئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ (وتفصیلاً لکل شی ) ” اور ہر چیز کی تفصیل کے لئے“ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامرونواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ (وھد) ” اور ہدایت“ یعنی وہ بھلائی کیط رف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے (ورحمۃ) ” اور رحمت“ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انہیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے (لعلھم ) ” تاکہ وہ لوگ“ یعنی ہمارے ان کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے (بلقآء ربھم یومنون) ” اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں“ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لئے تیار کے موجب ہیں۔ (وھذا) ” اور یہ“ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم (کتب انزلنہ مبرک) ” کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔“ یعنی اس کتاب کے اندر خیر کثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اور اس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پر آمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکر نہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں۔ (فاتبعوہ) ” پس اس کی پیروی کرو“ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع بنیاد رکھو (واتقوا) ” اور ڈرو“ یعنی کسی بھی امر میں اللہ کی مخالت کرنے سے ڈرو (لعلکم ترحمون) ” تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے اعتبار سے اس کتاب کی پیروی ہے۔ (ان تقولوا انما انزل الکتب علی طآئفتین من قبلنا) ” اس واسطے کہ کہیں تم کہنے لگو، کہ کتاب جو اتری تھی، سو ان ہی دو فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے“ یعنی قطع حجت کے لئے ہم نے تم پر یہ مبارک کتاب نازل کی ہے اور تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے تو دو گروہوں پر کتاب نازل کردی گئی۔ یعنی یہود و نصاریٰ پر (وان کنا عن دراستھم لغفلین) ” اور ہم کو تو انکے پڑھنے پڑھانے کی خبر ہی نہ تھی۔“ یعنی تم کہو کہ ہم پر کوئی کتاب نہیں اتاری گئی اور یہود و نصاریٰ پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان کے بارے میں ہمیں کوئی علم ہے نہ معرفت۔ اس لئے ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی جس سے بڑھ کر جامع، واضح اور روشن کوئی اور کتاب آسمان سے نازل نہیں کی گئی۔ (او تقولو الو انا انزل علینا الکتب لکنا اھدی منھم) ” یا تم کہو کہ اگر اترتی ہم پر کتاب تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے“ یعنی یا تو تم یہ عذر پیش کرو گے کہ تمہارے پاس اصل ہدایت ہی نہیں پہنچی یا تمہارا عذر یہ ہوگا کہ یہ ہدایت کامل نہ تھی۔ پس تمہیں اپنی کتاب کے ساتھ اصل اور کامل ہدایت حاصل ہوگئی۔ بنابریں فرمایا : (فقد جآء کم بینۃ من ربکم) ” پس تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل آگئی۔“ یہ اسم جنس ہے اور اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حق کو بیان کرے (وھدی) ” اور ہدیات“ گمراہی کے اندھیروں میں راہ ہدایت ہے (ورحمۃ) ” اور رحمت“ یعنی دین و دنیا میں تمہارے لئے سعادت ہے۔ پس یہ چیز تم پر واجب کرتی ہے کہ تم اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کی خبروں پر ایمان لاؤ اور جس کسی نے اس کی پروا نہ کی اور اس کو جھٹلایا، وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ بنابریں فرمایا : (فمن اظلم ممن کذب با یت اللہ وصدف عنھا) ” اب اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے؟“ یعنی اس نے روگردانی کی اور پہلو بچا کر نکل گیا (سنجزی الذین یصدفون عن ایتنا سوء العذاب) ” ہم سڑزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں، برے عذاب کی“ یعنی وہ ایسا عذاب ہوگا کہ وہ اس میں مبتلا شخص کو سخت تکلیف دے گا، اس پر بہت شاق گزرے گا (بما کانوا یصدقون) ” وہ ایسا عذاب ہوگا کہ وہ اس میں مبتلا شخص کو سخت تکلیف دے گا، اس پر بہت شاق گزرے گا (بما کانوا یصدفون) ” اس کترانے کے بدلے میں“ وہ خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو ہماری آیتوں سے پھیرتے تھے، یہ ان کے اعمال بدلہ بدلہ ہے (وما ربک بظلام للعبید) (حم السجدہ :63/71) ” اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ “ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ قرآن کا علم، جلیل ترین، انتہائی بابرکت اور تمام علوم سے زیادہ وسیع علم ہے۔ اسی کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف کامل راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے انسان اولین و آخرین میں سے متکلمین کے قیاسات اور اندازوں اور فلسفیوں کے افکار و نظریات کا محتاج نہیں رہتا۔ عام طور پر معروف ہے کہ کتاب یہود و نصاریٰ کے سوا کسی پر نہیں اتری اور علی الاطلاق وہی اہل کتاب ہیں۔ دیگر تمام گروہ، مجوس وغیرہ اہل کتاب کے زمرے میں نہیں آتے۔ ان آیات مبرکہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نزول قرآن سے قبل جاہلی عرب، ان اہل کتاب کے علم سے بے بہرہ تھے جن کے پاس علم تھا اور ان کی کتب کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔