سورة الانعام - آیت 73

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ ۚ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے [٨٠] ساتھ پیدا کیا ہے اور جس دن وہ (قیامت کو) کہے گا کہ ''ہوجا'' تو وہ (قائم) ہوجائے گی۔ اس کی بات سچی ہے اور جس دن صور میں [٨١] پھونکا جائے گا اس دن اسی کی حکومت ہوگی۔ وہ چھپی اور ظاہر سب باتوں کو جاننے والا ہے اور وہ بڑا دانا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 73 (قل) اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے کہہ دو جو تمہیں اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ دین جو ان کے معبودوں کے وصف کی تشریح کر کے واضح کرتا ہے۔ ایک عقل مند شخص کو ان معبودوں کو چھوڑنے کے لئے ان کے اوصاف کا ذکر ہی کافی ہے، کیونکہ ہر عاقل شخص جب مشرکین کے مذہب میں غور و فکر کرتا ہے تو اس کے بطلان پر دلائل و براہین کے قائم ہونے سے پہلے ہی اس کے بطلان کا اسے قطعی یقین ہوجاتا ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے (اندعوا من دون اللہ مالا ینفعنا ولا یضرنا) ” کیا ہم اللہ کے سوا، ان ہستیوں کو پکاریں جو ہمیں نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔“ اس وصف میں ہر وہ معبود داخل ہے جس کی بھی اللہ کے سوا بندگی کی جاتی ہے کیونکہ وہ نفع دے سکتی ہے نہ نقصان، اسے کسی معاملے کا کوئی اختیار نہیں، تمام معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ، قدرت میں ہے۔ (ونرد علی اعقابنا بعد اذھدنا اللہ) ” اور کیا پھرجائیں ہم الٹے پاؤں، اس کے بعد کہ اللہ سیدھی راہ دکھا چکا ہم کو“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدیات سے نوازے جانے کے بعد کیا کیا ضلالت کی طرف پلٹ جائیں، رشد کو چھوڑ کر گمراہی کی طرف لوٹ جائیں، نعمتوں بھری جنت کے راستے کو چھوڑ کر ان راستوں پر چل نکلیں جو اپنے سالک کو عذاب الیم کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں؟ رشد و ہدایت رکھنے والا شخص اس حال پر کبھی راضی نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت والے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے (کالذی ساتھ وتہ الشیطین فی الارض) جسے شیاطین نے بیابان میں اس کے راستطے سے بھٹکا دیا ہو جو اس کی منزل کو جاتا تھا (حیران لہ اصحب یدعونہ الی الھدی) ” وہ حیران ہے، اس کے ساتھی اسے راستے کی طرف بلاتے ہیں“ اور شیاطین اسے ہلاکت کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ وہ دونوں پکارنے والوں کے درمیان حیران و سرگراں ہے۔ تمام لوگوں کا یہی حال ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے۔ اس لئے کہ لوگ اپنے اندر کشش رکھنے والے امور اور متعارض داعیے رکھتے ہیں۔ رسالت، عقل صحیح اور فطرت سلیم کے دواعی (یدعونہ الی الھدی) ” اس کو صحیح راستے کی طرف بلاتے ہیں۔“ اور اعلیٰ علیین کی بلندیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں اور شیطان کے داعیے اور وہ لوگ جو اس کی راہ پر گامزن ہیں اور نفس امارہ اسے گمراہی اور اسفل سافلین کی پستیوں میں گر جانے کی دعوت دیتے ہیں۔ لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے تمام امور میں یا اکثر امور میں ہدایت کے دواعی کے ساتھ چلتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ ہیں جن کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں دونوں قسم کے داعیے مساوی ہوتے ہیں، اس وقت دو جاذب امور باہم متعارض ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اہل سعادت اور الہ شقاوت کی پہچان ہوتی ہے۔ (قل ان ھدی اللہ ھو الھدی) ” اللہ نے جو راہ بتلائی ہے، وہی سیدھی راہ ہے“ یعنی اس راستے کے سوا کوئی راستہ ہدایت کا راستہ نہیں، جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر مشروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر راستے گمراہی، موت اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں (وامرنا لنسلم لرب العلمین) ” اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے تابع رہیں۔“ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانیں، اس کے اوامرونواہی کے سامنے سرتسلیم خم کردیں اور اس کی عبودیت کے تحت داخل ہوجائیں، کیونکہ یہ بندوں پر سب سے بڑی نعمت اور اس کی سب سے کامل ربوبیت ہے جو اس نے اپنے بندوں تک پہنچائی ہے۔ (وان اقیموا الصلوۃ) ” اور یہ کہ نماز پڑھتے رہو۔“ یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط، سنن اور اس کی تکمیل کرنے والے تمام امور کے ساتھ قائم کریں (واثقوہ) ” اور اس سے ڈرتے رہو۔“ جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اسے بجالا کر اور جس چیز سے روکا ہے اس سے اجتنا کر کے تقویٰ کا التزام کرو (وھو الذین الیہ تخشرون) ” اور تمہارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔ (وھو الذی خلق السموت ولارض بالحق) ” وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ“ تاکہ وہ بندوں کو حکم دے اور بعض چیزوں سے روکے پھر اس پر انہیں ثواب و عقاب دے (ویوم یقول کن فیکون قولہ الحق) ” اور جس دن کہے گا کہ ہوجا تو وہ ہوجائے گا، اس کا ارشاد برحق ہے۔“ جس میں کوئی شک ہے نہ کوئی ایچ پیچ اور نہ اللہ تعالیٰ کوئی عبث بات کہتا ہے۔ (ولہ الملک یوم تنفخ فی الضور) ” اور اسی کی بادشاہی ہے جس دن پھونکا جائے گا صور“ یعنی قیامت کے روز، اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قیامت کے دن کا ذکر اس لئے کیا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے، کیونکہ قیامت کے دن تمام ملکیتیں ختم ہوجائیں گی اور اللہ واحد و قہار کی ملکیت باقی رہ جائے گی۔ (علم الغیب و الشھادۃ وھو الحکیم الخبیر) ” وہ جاننے والا ہے چھپی اور کھلی باتوں کا اور وہی حکمت والا، خبردار ہے۔“ جو حکمت تام، نعمت کامل اور احسان عظیم کا مالک ہے، اس کا علم اسرار نہاں، باطنی راز اور چھپے ہوئے امور کا احاطہ کئے ہوئے ہے جس کے سوا کوئی معبود اور کوئی رب نہیں۔