سورة الانعام - آیت 62

ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

پھر ان روحوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔[٦٨] جو ان کا حقیقی مالک ہے۔ سن لو! فیصلہ کے جملہ اختیارات اسی کے پاس ہیں اور اسے حساب [٦٩] لینے میں کچھ دیر نہیں لگتی

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 62 (قل) ” کہہ دیجیے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے !(من ینجیکم من ظلمت البر والبحر) ” کون تمہیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے؟“ یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمہیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لئے پکارتے ہو اور اپنی اس مصیبت سے جس میں ہم گرفتار ہیں (لنکونن من الشکرین) ” تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ) کے شکر گزار ہوں گے“ اس کی نعمت کا اعتراف کریں گے اور اس نعمت کو اپنے رب کی اطاعت میں استعملا کریں گے اور اس نعمت کو اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے بچیں گے۔ (قل اللہ ینجیکم منھا ومن کل کرب) ” کہہ دیجیے ! اللہ ہی تمہیں اس (خاص مصیبت) اور دیگر تمام مصائب سے نجات دلاتا ہے“ (ثم انتم تشرکون) ” پھر بھی تم شرک کرتے ہو“ تم اللہ کے بارے میں جو کہتے ہو اسے پورا نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو فراموش کردیتے ہو۔ پس شرک کے بطلان اور توحید کی صحت پر اس سے واضح اور کون سی دلیل ہوسکتی ہے؟