سورة الانعام - آیت 60

وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

وہی تو ہے جو رات کو تمہاری [٦٥] روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن کو کرچکے ہو وہ بھی جانتا ہے پھر (دوسرے دن جسم میں روح بھیج کر) تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے تاکہ مقررہ مدت (تاموت) پوری کردی جائے۔ پھر اسی کی طرف تمہاری بازگشت ہے۔ پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم (دنیا میں) کیا کرتے رہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 60 یہ آیت کریمہ تمام تر توحید الوہیت کے تحقق، مشرکین کے خلاف دلائل اور اس بیان پر مشتمل ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی محبت، تعظیم، اجلال اور اکرا مکا مستحق ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے جو بندوں کی، ان کے سوتے جاگتے میں تدبیر کرتا ہے، وہ رات کو انہیں وفات یعنی نیند کی وفات دیتا ہے، ان کی حرکات پر سکون طاری ہوجاتا ہے اور ان یک بدن آرام کرتے ہیں، نیند سے بیداری کے بعد وہ ان کو دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور وہ جن اعمال کا اکتساب کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان میں اسیطرح تصرف کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ اپنی مقررہ مدت پوری کرلیتے ہیں۔ وہ اپنی اس تدبیر کے ذریع سے ان کی مدت مقررہ کا فیصلہ کرتا ہے، یعنی مدت حیات اور اس کے بعد ایک اور مدت ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثم الیہ مرجعکم ) ” پھر اس کی طرف ہی تمہارا لوٹنا ہے“ اس کے سوا اور کسی کی طرف لوٹنا نہیں ہے۔ (ثم ینبئکم بما کمنتم تعملون) ” پھر وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو، بتائے گا۔“ نیک اور بد جو کام بھی تم کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آگاہ فرمائے گا۔ (وھو) ” اور وہ“ یعنی اللہ تعالیٰ (القاھر فوق عبادہ) ” غالب ہے اپنے بندوں پر“ وہ ان پر اپنا ارادہ اور اپنی مشیت عامہ نافذ کرتا ہے۔ بندے کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر حرکت و سکون کے بھی مالک نیں۔ بایں ہمہ اس نے اپنے بندوں پر فرشتوں کو محافظ مقرر کر کرھا ہے اور بندے پر جو عمل کرتے ہیں یہ فرشتے اس کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وان علیکم الحفظین کراماً کاتبین یعلمون ما تفعلون) (الانفطار :12-10/82) ” اور تم پر نگہبان مقرر ہیں باعزت متہاری باتوں کو لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں۔“ ارشاد فرماتا ہے (عن الیمین و عن الشمال فعید، ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید) (ق :18-18/50) ” اس کے دائیں اور بائیں جانب بٹیھے ہوتے ہیں۔ وہ جب کوئی بات کہتا ہے تو ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔“ یہ ان کی زندگی کے احوال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت ہے۔ (حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا) ” یہاں تک کہ جب آ پہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضے میں لے لیتے ہیں اور اس کو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے وہ جو روح قبض کرنے پر مقرر ہیں (وھم لایفرظون) ” اور وہ کوتاہی نہیں کرتے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر سے جو مدت مقرر کردی ہے اور اس میں ایک گھڑی کا اضافہ کرسکتے ہیں نہ ایک گھڑی کی کمی، وہ صرف مکتوب الٰہی اور تقدیرربانی کو نافذ کرتے ہیں۔ (ثم) ” پھر“ موت اور حیات برزخ کے بعد اور جو کچھ اس میں خیر و شر ہے (ردوآ الی اللہ مولھم الحق) ” پہنچائے جائیں گے وہ اللہ کی طرف جو ان کا سچا مالک ہے“ یعنی وہ مولائے حق اپنے حکم قدری کے مطابق ان کا والی ہے اور ان کے اندر اپنی مختلف انواع کی تدابیر کو نافذ کرتا ہے۔ پھر وہ امرو نہی اور حکم شرعی کے ذریعے ان کا والی ہے، اس نے ان کی طرف رسول بھیجے اور ان پر کتابیں نازل کیں پھر ان کو اسی کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان میں اپنا حکم جزائی نافذ کرے گا اور ان کو ان کے اچھے اعمال کا ثواب عطا کرے گا اور ان کی بدیوں اور برائیوں کی پاداش میں انہیں عذاب دے گا۔ (الا لہ الحکم) ” سن رکھو ! حکم اسی کا ہے“ وہ اکیلا جس کا کوئی شریک نہیں، فیصیل کا مالک ہے (وھو اسرع الحسبین) ” اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے“ کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے ہے اور اس نے ان کے اعمال کو بھی محفوظ کیا ہوا ہے۔ پہلے اس نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کیا، پھر فرشتوں نے اپنی اس کتاب میں ثبت کیا جو ان کے ہاتھوں میں ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے، وہ اپنے بندوں کو ان کے تمام احوال میں درخوراعتنا سمجھتا ہے، وہی حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کا مالک ہے پھر مشرکین کیوں کر اس ہستی سے روگردانی کر کے جو ان صفات کی مالک ہے ایسی ہستیوں کی بندگی اختیار کرتے ہیں جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں، جو ذرہ بھر نفع کی مالک نہیں اور ان میں کوئی قدرت اور ارادہ نہیں؟ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کھلے عام کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت پر بہتان کی جرأت کرتے ہیں اور وہ ان کو معاف کردیتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کتنا حلیم ہے اور اس کا عفو اور اس کی رحمت ان پر سایہ کناں ہے تو ان کے داعیے اس کی معرفت کی طرف خود بخود کھنچے چلے آئیں اور ان کی عقل اس کی محبت میں (دیگر ہر شے سے) غافل ہوجائے اور وہ خود اپنے آپ پر سخت ناراض ہوں کیونکہ انہوں نے شیطان کی داعی کی اطاعت کی جو رسوائی اور خسارے کا موجب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل سے عاری ہیں۔