سورة الانعام - آیت 56

قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۚ قُل لَّا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

آپ ان سے کہئے کہ : مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ ''میں ان کی عبادت کروں جنہیں اللہ کے سوا تم پکارتے ہو'' آپ ان سے کہئے کہ : میں تمہاری خواہشات کی پیروی [٦٠] نہ کروں گا اور اگر ایسا کروں تب تو میں بہک گیا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 56 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے : (قل) ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارت یہیں (انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ) ” جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔“ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع ون قصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمہارے لئے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔ بنابریں فرمایا : (قل لا اتبع اھوآء کم قد ضللت اذا) ” کہہ دیجیے میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا، بیشک تب میں بہک جاؤں گا“ یعنی اگر میں تمہاری خواہشات کی پیروی کروں تو گمراہ ہوجاؤں گا (ومآ ان من المھتدین) ” اور کسی پہلو سے بھی راہ راست پر نہیں رہوں گا“ رہی و وہ توحید اور اخلاص عمل جن پر میں عمل پیرا ہوں تو یہی حق ہے جس کی تائید واضح براہین اور قطعی دلائل کرتے ہیں۔ (علی بینۃ من ربی) ” میں تو اپنے رب کی دلیل روشن پر ہوں۔“ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس قرآن کی صحت اور اس کے ماسوائے کے بطلان کا واضح یقین رکھتا ہوں۔ یہ رسول کی طرف سے قطعی شہادت ہے جو ہر قسم کے تردد سے پاک ہے۔ رسول علی الاطلاق سب سے عادل گواہ ہوتا ہے۔ اہل ایمان نے رسول کی گواہی کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جسم ایمان سے نوازا ہے اس ایمان کے مطابق ان کے ہاں اس شہادت کی صحت اور صداقت متحقق ہے۔ (٣) مگر اے مشرکو !(کذبتم بہ) ” تم نے اس کی تکذیب کی“ اور یہ تمہاری طرف سے اس سلوک کا مستحق نہ تھا، تصدیق کے سوا کوئی اور سلوک اس کے شایان شان نہ تھا۔ جب تم تکذیب پر مصر ہو تو جان رکھو کہ لا محالہ عذاب تم پر واقع ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عذاب مقرر ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا تم پر نازل کرے گا۔ اگر تم جلدی مچاتے ہو تو معاملہ میرے اختیار میں نہیں (ان الحکم الا للہ) ” حکم صرف اللہ کا ہے“ جس طرح اس نے اوامرونواہی میں اپنا حکم شرعی نافذ کیا ہے اسیطرح وہ حکم جزائی نافذ کرے گا اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ثواب و عقاب دے گا۔ پس اس کے فیصلے پر اعتراض درخورا عتنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے راہ حق کو واضح کردیا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حق بیان کر کے ان کا عذر ختم کردیا اور یوں ان کی حجت منقطع ہوگئی، تکہ وہ ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہوا او جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے (وھو خیر الفصلین) ” وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“ وہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، وہ ان کے درمیان ایسافصلہ کرنا ہے جس پر اس کی تریف کی جای ہے حتی کہ وہ تعریف کئے بغیر نہیں رہتا جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے اور وہ حق کو واضح اور معتین کردیتا ہے۔ (قل) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو جہالت عناد اور ظلم کی بنا پر عذاب کے لئے حچا رہے ہیں (لو ان عندی ماستعجلون بہ لقضی الامر بینی وبینکم) ” اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رے ہو، تو طے ہوچکا ہوتا جھگڑا، میرے اور تمہارے درمیان“ پس میں تم پر عذاب واقع کردیتا۔ اس جلدی مچانے میں تمہارے لئے بھلائی نہیں۔ لیکن تمام تر معاملہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ، اختیار میں ہے جو نہایت برد بار اور صبر کرنے والا ہے۔ نافرمان اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والے اس کے سامنے بڑی جرأت سے گناہ کرتے ہیں مگر وہ ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بھی نوازتا ہے (واللہ اعلم بالظلمین) ” اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے“ ان کے احوال میں سے کوئ چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے، پس وہ ان کو مہلت دیتا ہے مگر مہمل نہیں چھوڑتا۔