سورة الانعام - آیت 51

وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور آپ اس وحی کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ان کے [٥٤] پروردگار کے ہاں اکٹھا کیا جائے گا جس کے بغیر انکا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ سفارشی ہوگا۔ اسی طرح شائد وہ پرہیزگار بن جائیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 51 یہ قرآن تمام مخلوق کے لئے انداز ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں (الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم) ” جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کئے جانا ہے۔“ پس انہیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انہیں نقصان دیتا ہے۔ (لیس لھم من دونہ) ” نہیں ہوگا ان کے لئے اس کے بغیر“ یعنی اللہ کے بغیر (ولی ولا شفیع) ” کوئی دوست اور نہ سفارشی“ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کرسکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہوجائے اور ان سے تکلیف دور ہوجائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہوگا، کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں (لعلھم یتقون) ” تاکہ وہ پرہیز گار بنیں۔“ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں۔ کیونکہ انداز، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ (ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجھہ) ” اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جوصبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ“ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں۔ بنا بریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انہیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں، کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقرا اور نادار ہیں اور یہی درحققیت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں۔ (ما علیک من حسابھم من شیء وما من حسابک علیھم من شیء ) ” نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ“ یعنی ہر شخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اسیکے لئے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے (فتطردھم فتکون من الظلمین) ” پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔“ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فقرائے مومنین کی مجلس میں بیٹھتے تو دلجمعی سے ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے، ان کے ساتھ حسن خلق اور نرمی کا معاملہ کرتے اور انہیں اپنے قریب کرتے، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں زیادہ تر یہی لوگ ہوتے تھے۔ ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ قریش میں سے یا اعراب میں سے چند اجڈ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تم پر ایمان لائیں اور تمہاری پیروی کریں تو فلاں فلاں شخص جو کہ فقرائے صحابہ میں سے تھے، اپنے پاس سے اٹھا دو، کیونکہ ہمیں شرم آتی ہے کہ عرب ہمیں ان گھٹیا لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھیں۔ ان معترضین کے اسلام لانے اور ان کے اتباع کرنے کی خواہش کی بنا پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں بھی یہ دیکھیں۔ ان معترضین کے اسلام لانے اور ان کے اتباع کرنے کی خواہش کی بنا پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں بھی یہ خیال آیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات کے ذریعے سے آپ کو ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ (وکذلک فتنا بعضھم ببعض لیوقولوا اھولآء من اللہ علیھم من بیننا) ” اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعض لوگوں کو بعضوں سے، تاکہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا؟ یعنی یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی آزمائش ہے کہ اس نے بعض کو خوشحال بنایا اور بعض کو محتاج اور تنگ دست پیدا کیا۔ بعض کو صاحب شرف پیدا کیا، بعض کو گھٹیا اور کم تر، جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی نادار اور کم تر شخص کو ایمان عطا کر کے اس پر احسان کرتا ہے تو یہ چیز خوشحال اور بلند مرتبہ شخص کے لئے امتحان کا باعث ہوتی ہے۔ اگر سا کا مقصد اتباع حق ہے تو وہ ایمان لا کر مسلمان ہوجاتا ہے اور اسے ایمان لانے سے اس شخص کی مشارکت نہیں روک سکتی جس کو وہ مال و دولت اور جاہ و مرتبہ میں اپنے سے کمتر خیال کرتا ہے۔ اگر وہ طلب حق میں سچا نہیں تو یہ وہ گھاٹی ہے جو اسے اتباع حق سے روک دیتی ہے۔ جن کو وہ اپنے آپ سے کم تر خیال کرتے ہیں ان کو حقیر گردانتے ہوئے کہتے ہیں : (اھولاء من اللہ علیھم من بیننا) ” کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا؟“ اسی چیز نے ان کی عدم طہارت کے باعث ان کو اتباع حق سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس کلام کو جو اللہ تعالیٰ پر اعتراض کو متضمن ہے کہ اس نے ان کو ہدیات سے نواز دیا اور ان کو محروم کردیا۔۔۔ جواب دیتے ہوئے فرمایا : (الیس اللہ باعلم بالشکرین) ” کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا شکر کرنے والوں کو؟“ جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل صالح کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ایسے ہی کو اپنے فضل و احسان سے نوازتا ہے نہ کہ ان کو جو اس کے شکر گزار نہیں ہوتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے وہ اپنے فضل و کرم سے کسی ایسے شخص کو نہیں نوازتا جو اس کا اہل نہ ہوا اور یہ معترضین اسی وصف کے مالک ہیں۔ اس کے برعکس جن فقرا کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے وہ الہ تعالیٰ کے شکر گزار لوگ ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے مطیع مومن بندوں کو دور کرنے سے روک دیا تو ان کفار کے مقابلے میں انہیں اکرام، تعطیم، عزت اور احترام سے پیش آنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا : (واذا جآءک الذین یومنون بایتنا فقل سلم علیکم) ” جب آپ کے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو انہیں السلام علیکم کہیں۔“ یعنی جب اہل ایمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو آپ ان کو سلام کہیں، ان کو خوش آمدید کہیں۔ سلام و تحیات سے ان کا استقبال کریں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے جود و احسان کی بشارت دیں جو ان کے عزائم اور ارادوں میں نشاط پیدا کرے اور انہیں منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے ہر راستہ اور ہر سبب اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔ ان کو گناہوں پر قائم رہنے سے ڈرائیں اور انہیں گناہوں سے توبہ کرنے کا حکم دیں تاکہ وہ اپنے رب کی مغفرت اور اس کے جود و کرم کو پا سکیں۔ (کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ انہ من عمل منکم سوآء بجھالۃ ثم تاب من بعدہ واصلح) ” لکھ لیا ہے تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو جو کوئی کرے تم میں سے برائی، ناواقفیت سے، پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیک ہوجائے“ یعنی (قبولیت توبہ کے لئے) گناہوں کو ترک کرنا، ان کا قلع قمع کرنا، ان پر نادم ہونا اور اعمال کی اصلاح کرنا ضروری ہے، نیز ان امور کی ادائیگی جن کو اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور جو ظاہری اور باطنی اعملا فاسد ہوچکے ہیں۔ ان کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ جب یہ تمام امور موجود ہوں (فانہ غفور رحیم) ” تو بات یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جن امو کا حکم دیا ہے اس کی بجا آوری کے مطاق ان پر اپنی مغفرت اور رحمت کا فیضان کرتا ہے۔ (وکذلک نفصل الایت) ” اور اسی طرح ہم اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔“ یعنی اسی طرح ہم اپنی آیات کو واضح کرتے ہیں، گمراہی میں سے ہدیات کے راستے کو ممیز کرتے ہیں، رشد و ہدایت اور ضلالت میں فرق کرتے ہیں تاکہ راہ ہدایت پر چلنے والے ہدایت پا لیں، تاکہ حق کا راستہ عیاں ہوجائے جس پر گامزن ہونا چاہئے۔ (ولتستبین سبیل المجرمین) ” اور تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے“ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب تک پہنچاتا ہے، کیونکہ جب مجرموں کا راستہ ظاہر اور صاف واضح ہوجاتا ہے تو اس سے اجتناب کرنا اور اس سے دور رہنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر راستہ مشتبہ اور غیر واضح ہو تو یہ مقصد جلیل حاصل نہیں ہوسکتا۔