سورة المآئدہ - آیت 111

وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں۔ تب وہ حضرت عیسیٰ سے کہنے لگے : ہم ایمان لاتے ہیں اور آپ گواہ رہیے کہ ہم حکم ماننے والے [١٦٠] ہیں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 111 یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القا کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انہوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ” ہم ایمان لائے، گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں“ پس انہوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا : (من انصاری الی اللہ قال الحواریون نحن انصار اللہ) (آل عمران :52/3) ” اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے“ حواریوں نے عرض کیا ” ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ “ (اذ قال الحواریون یعیسی ابن مریم ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مآئدۃ من السمآء) ” جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟“ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہے۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا، بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتی ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لئے حضتر عیسیٰ نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : (اتقوا اللہ ان کنتم مومنین) ” اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘ کیونکہ ممن کا سرمایہ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے (قالو نرید ان ناکل منھا) ” ہم اس سے کھانا چاتے ہیں“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے (وتمئن قلوبنا ) ” اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں“ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا، جیسا کہ جناب خلیل نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انہیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے (قال اولم تومن قال بلی ولکن لیطمئن قلبی) (البقرۃ:260/2) ” فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں۔ یہ عرض تو محض اس لئے ہے کہ میرا دل مطمئن ہوجائے۔“ پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے (ونعلم ان قد صدقتنا) ” اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔“ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے (ونکون علیھا من الشھدین) ” اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہوجائیں“ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لئے مصلحت کی حامل ہوگی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہوجائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہوگا۔ جب عیسیٰ نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انہیں معلوم ہوگیا تو انہوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی (اللھم ربنا انزل علینا مآئدۃ من السمآء تکون لنا عیداً الا ولنا واخرنا وآیۃ منک) ” اے اللہ ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لئے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو“ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لئے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیاء و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں۔ (وارزقنا وانت خیر الرزاقین) ” اور ہمیں روزی دے اور تو وہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے“ یعنی اسے ہمارے لئے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰ نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دستر خوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (انی منزلھا علیکم فمن یکفر بعد منکم فانی اعذبہ عذاباً لا اعذبہ احداً من العلمین) ” بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا“ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کردیا اور یوں وہ درد ناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہوگا کہ انہوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔ اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھلا بیٹھے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لئے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو بلکہ نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کئے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (ونکون علیھا من الشھدین) ” اور ہم اس پر گواہ ہیں۔“ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔ واذ قال اللہ یعسی ابن مریمء انت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ) ” اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا“۔ یہ نصاریٰ کے لئے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لئے ہے۔ جناب عیسیٰ اس سے برأت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے (سبحنک) ” پاک ہے تو یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہہ بیان کرتا ہوں (مایکون لی ان اقول مالیس لی بحق) ” مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں۔“ یعنی میرے لئے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں، کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں۔ اللہ کے مقرب فرشتوں، انبیاء و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی عاجز اور محتاج مخلوق ہیں۔ (ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک) ” اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھ کو ضرور معلوم ہوگا، تو جانتا ہے جو میری جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔“ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہوچکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے (انک انت علامہ الغیوب) ” بے شک تو علام الغیوب ہے۔“ یہ عیسیٰ کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے۔ چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لم اقل شیاء من ذلک) ” میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا“ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔ پھر مسیح نے تصریح فرمائی کہ انہوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا (ما قلت لھم الا ما امرتنی بہ) ” میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا۔“ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیرے عظمت کے سامنے دم مارنے کی جرأت نہیں (ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم) ” یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے۔“ میں نے تو صرف الہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمہارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ (وکنت علیھم شھیداً مادمت فیھم) ” اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا“ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا (فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم) ” پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا۔“ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا (وانت علی کل شیء شھید) ” اور تو ہر چیز سے خبردار ہے“ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لئے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کئے ہوئے ہے تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔ (ان تعذبھم فانھم عبادک ) ” اگر تو ان کو عذاب دے، تو وہ تیرے بندے ہیں“ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کرسکتے ہیں۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انہیں کبھی عذاب نہ دیتا (وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم) ” اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے۔“ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کردینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کردیتا ہے، تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ (قال اللہ) قیامت کے روز بندوں کو جو حال ہوگا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہوگا اور کون ہلاک ہوگا، کسے سعادت نصیب ہوگی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی (ھذا یوم ینفع الصدیقین صدقھم) ” یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صرط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔ بنا بریں فرمایا : (آیت) ” ا کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی“ جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرور پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔ (للہ ملک السموت ولارض وما فیھن) ” اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کو فی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لئے فرمایا : (وھو علی کل شی قدیر“” اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کرسکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں۔