سورة المآئدہ - آیت 91

إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی [١٣٧] اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 91 اللہ تبارک و تعالیٰ ان مذکورہ قبیح اشیا کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ یہ شیاطنی اور گندے کام ہیں۔ (فاجتنبوہ) ” پس بچو ان سے“ یعنی ان گندے کاموں کو چھوڑ دو (لعلکم تفلحون) ” تاکہ تم فلاح پاؤ“ کیونکہ فلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ ان چیزوں سے اجتناب نہ کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ خاص طور پر مذکوہ فواحش : (الف) خمر : ہر وہ چیز خمر ہے جو عقل کو ڈھانپ لے یعنی عقل پر نشے کا پردہ ڈال دے۔ (ب) جوا : وہ تمام مقابلے جن میں جانبین کی طرف سے جیتنے والے کے لئے عوض مقرر کیا گیا ہو، مثلاً گھوڑ دوڑ وغیرہ کی شرط۔ (ج) انصاب : اس سے مراد وہ بت وغیرہ ہیں جن کو نصب کردیا جاتا ہے اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جاتی ہے۔ (د) پانسے : جن کے ذریعے سے لوگ اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں۔ یہ وہ چار چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور ان کے ارتکاب پر زجر و توبیخ کی ہے اور ان کے ان مفاسد سے آگاہ فرمایا جو ان کو ترک کرنے اور ان سے اجتناب کے داعی ہیں۔ (١) یہ تمام امور (رجس) یعنی ناپاک ہیں۔ اگرچہ حسی طور پر یہ ناپاک نہیں مگر معنوی طور پر ناپاک ہیں اور ناپاک امور سے بچنا اور ان کی گندگی میں ملوث ہونے سے اجتناب کرنا ہی مناسب ہے۔ (٢) یہ تمام امور شیطانی اعمال میں اور شیطان انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دشمن سے ہمیشہ دور رہا جاتا ہے اور اس کی گھاتوں اور سازشوں سے بچا جاتا ہے خاص طور پر ان اعمال سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں دشمن ملوث کر کے ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے اور سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ اپنے کھلے دشمن کے اعمال سے دور رہ کر اس سے بچنا چاہئے اور ان اعمال میں پڑنے سے ڈرنا چاہئے۔ (٣) مذکورہ امور سے اجتناب کئے بغیر بندے کی فلاح ممکن نہیں، فلاح، امر مطلوب کے حصول میں کامیابی اور امر مر ہوب سے نجات کا نام ہے اور یہ تمام امور فلاح سے مانع اور اس کے لئے رکاوٹ ہیں۔ (٤) مذکورہ اعمال لوگوں کے درمیان بغض اور عداوت کے موجب ہیں۔ شیطان ان اعمال کو لوگوں کے درمیان پھیلانے کا بڑا حریص ہے، خاص طور پر شربا اور جواء تاکہ وہ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بو سکے۔ کیونکہ شراب پینا، عقل میں فتور آنے کا، ہوش و حواس کے چلے جانے کا اور مومن بھائیوں کے درمیان بغض اور عداوت پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے خاص طور پر جبکہ اس کے ساتھ وہ اسباب بھی موجود ہوں جو شربا پینے والے کے لوازم میں شمار ہوتے ہیں۔ تب یہ شراب نوشی بسا اوقات قتل کے اقدام تک پہنچا دیتی ہے۔ جوئے میں ایک شخص کو دوسرے شخص پر جو جیت حاصل ہوتی ہے اور وہ بغیر کسی مقابلہ کے بہت سامال حاصل کرلیتا ہے تو یہ چیز بغض و عداوت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ (٥) مذکورہ اعمال قلب کو ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور بدن کو ذکر اور نماز سے دور کردیتے ہیں۔ حالانکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے لئے بندے کو تخلیق کیا گیا ہے اور انہی دو امور میں بندے کی سعادت ہے۔ شراب اور جوا تو ذکر الٰہی اور نماز کے لئے سب سے بڑی راکوٹ ہے۔ قلب مشغول ہوجاتا ہے اور ذہن شراب اور جوئے میں مشغول ہو کر غافل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ طویل مدت اس پر گزر جاتی ہے اور انسان کو ہوش تک نہیں رہتا کہ وہ کہاں ہے۔ پس کون سا گناہ اس گناہ سے بڑھ کر قبیح ہے جو انسان کو ناپاک کر کے ناپاک لوگوں میں شامل کر دے اور وہ اسے شیطان کے اعمال اور اس کے مکرو فریب کے جال میں پھنسا دے اور وہ شیطان کا اس طرح مطیع ہوجائے جس طرح مویشی چروا ہے کے مطیع ہوتے ہیں۔ شیطان بندے اور اس کی فلاح کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بوتا ہے اور انہیں ذکر الٰہی اور نماز سے روکتا ہے۔ (کیا یہ مفاسد جو مذکور ہوئے، کم ہیں؟) اور کیا ان مفاسد سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہے جو ان سے بڑی ہو؟ بنابریں اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم کو ان چیزوں سے روکتے ہوئے فرمایا (فھل انتھ منتھون) ” کیا تم باز آتے ہو؟“ کیونکہ ایک عقل مند شخص جب ان مفاسد میں سے کسی ایک پر نظر ڈالتا ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور اپنے آپ کو ان برائیوں کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے۔ اسے کسی لمبے چوڑے وعظ اور بہت زیادہ زجر و توبیخ کی ضرورت نہیں ہوتی۔