سورة المآئدہ - آیت 87

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اے ایمان والو! تم ان پاکیزہ چیزوں کو کیوں حرام [١٣١] ٹھہراتے ہو۔ جنہیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ کیونکہ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 87 (یایھا الذین امنوا لاحرموا طیبت مآ احل اللہ لکم) ” اے ایمان والو ! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے، تم انہیں حرام مت کرو“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں، انہیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں۔ پس اللہ تعلایٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمہارے لئے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ ورنہ تم کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ پر افتراپردازی کے ساتھ حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب بھی ٹھہر و گے۔۔۔ اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے (ولا تعتدوان اللہ لایحث المعتدین) ” اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا، بلکہ ان سے ناراض ہوتا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا (وکلوا مما رزقکم اللہ حللاً) ” اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمہیں دی ہے اسے کھاؤ۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمہاری طرف بھیجا ہے جو تمہیں میسر ہیں۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے، نیزہ وہ پاک بھی ہو یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں۔ (واتقوا اللہ) ” اور اللہ سے ڈرتے رہو۔“ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو (الذین انتم بہ مؤمنون) ” وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو“ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز مثلاً ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہوجاتی۔ البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہوجائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یایھا النبی لم تحرم مآ احل اللہ لک) (التحریم :1/66) ” اے نبی ! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لئے حلال قرار دی ہے؟“ مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔ (١) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انہیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انہیں اسعتمال کرے اور اس طرح اطاعت الٰہی پر ان سے مدد لے۔