سورة المآئدہ - آیت 83

وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جو کچھ رسول کی طرف نازل کیا گیا ہے جب اسے سنتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلتے ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان [١٢٩] گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ'': اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لے آئے لہذا ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 83 اس کا ایک سبب یہ بھی ہے (واذا سمعوامآ انزل الی الرسول) ” جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی“ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں، آنسو جاری ہوجاتے ہیں، پس اسی لئے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا : (ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین) ” اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔“ اور یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ عادل ہیں اور انکی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وکذلک جعلنکم امۃ وسطاً لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا) (البقرہ :173/2) ” اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔ “ گویا انہیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا : (وما لنا لانؤمن باللہ وما جآء نا من الحق ونطمع ان یدخلنا ربنا مع القوم الصلحین) ” اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ درآں حالیہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فاثابھم اللہ بما قالوا) ” پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا“ یعنی انہوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی (جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا و ذلک جزآء المحسنین) ” باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا“ یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لئے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لئے عذاب کا ذکر کیا۔ (والذین کفروا وکذبوا با یتنآ اولئک اصحب الجعیم) ” اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں“ کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔