سورة المآئدہ - آیت 74

أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

کیا یہ لوگ اللہ کے حضور توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش طلب نہیں کرتے؟ حالانکہ اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 74-75 اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے (ان اللہ ھو المسیح ابن مریم) ” بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے“ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے۔۔۔ دراں حالیکہ عیسیٰ نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : (یبنی اسرآئیل اعبدوا اللہ ربی و ربکم) ” اے نبی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے“ مسیح نے اپنے لئے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لئے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ (انہ من یشرک باللہ) ” جو کوئی مخلوق میں سے کسیکو بھی (خواہ وہ عیسیٰ ہوں یا کوئی اور) اللہ کا شریک ٹھہراً ا ہے۔“ (فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماو ۂ النار) ” تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے“ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔ یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت۔۔۔ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کردیا۔۔۔ اس لئے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے (وما للظلمین من انصار) ” اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوگا“ جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کرسکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے (لقد کفر الذین قالوآ ان اللہ ثالث ثلثہ) ” یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے“ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم۔۔۔ اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے۔۔۔ یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انہوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کرلیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہوگئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا : (وما من الہ الا الہ واحد) ” اور نہیں ہے کوئی معبود، مگر ایک ہی معبود“ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جاسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : (وان لم ینتھوا عما یقولون لیمسن الذین کفروا منھم عذاب الیم) ” اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انہیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا“ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں یک توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا : (افلا یتوبون الی اللہ) ” کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے؟“ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ (ویستغفرونہ) اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں؟ (واللہ غفور رحیم) ” اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلند یوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا (افلا یتوبون الی اللہ) ” کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے؟“ پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیح اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا : (ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل) ” نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے“ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انہیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے (وامہ) ” اور ان کی ماں“ یعنی مریم (صدیقہ) ” صدیقہ ہیں۔“ یعنی جناب مریم کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صد یقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں۔ صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لئے یہی کافی ہے۔ اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وما ارسلنا من قبلک الا رجالاً نوحی الیھم) (یوسف :109/12) ” اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ “ جب حضرت عیسیٰ انبیاء و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الہ قرار دے دیا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (کانا یاکلن الطعام) ” وہ دونوں کھانا کھاتے تھے“ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریم الہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کردی تو فرمایا : (انظر کیف نبین لھم الایت) ” کیھو ہم کیسے ان کے لئے آیات بیان کرتے ہیں“ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں۔ بایں ہمہ انہیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں، جھوٹ اور افترا بردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔