سورة البقرة - آیت 63

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور (اے بنی اسرائیل! وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب ہم نے تم پر طور پہاڑ کو بلند کر کے [٨١] تم سے پختہ عہد لیا تھا (اور کہا تھا کہ :) ''جو کتاب ہم نے تمہیں دی ہے اس پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونا اور جو احکام اس میں درج ہیں انہیں خوب یاد رکھنا۔ اس طرح شاید تم پرہیزگار بن جاؤ

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 63-64 اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اسلاف کے افعال کی وجہ سے ان پر زجر و توبیخ کا پھر اعادہ کیا ہے۔ فرمایا (آیت) وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُم یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا۔ (میثاق) مراد ایسا پکا عہد ہے جو طور کو ان کے اوپر معلق کر کے ڈر اور دباؤ کے ذریعے سے مؤکد کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا : (آیت) خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ۔ یعنی تو رات کو پکڑے رہو (آیت) بِقُوَّۃٍ یعنی تورات کو محنت، کوشش اور اللہ تعالیٰ کے اوامر پر صبر و استقامت کے ساتھ پکڑے رہو۔ (آیت) وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ یعنی جو کچھ تمہایر کتاب میں ہے اسے سیکھو اور اس کی تلاوت کرو۔ (آیت) لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ” تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے بچو“ یا ” تاکہ تم اہل تقویٰ میں شمار ہو۔“ پھر اس نہایت بلیغ تاکید کے بعد فرمایا : (آیت) ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ۔ یعنی پھر تم نے اس سے اعراض کیا اور یہ روگردانی تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے سخت ترین عذاب کا باعث بنی۔ (آیت) فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ” لیکن اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم یقیناً خسارے میں پڑجاتے۔ “