سورة النسآء - آیت 174

يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح [٢٣١] دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف صاف صاف راہ دکھانے والا نور (قرآن کریم) نازل کیا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 174 اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں پر احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ان تک براہین قاطعہ اور واضح روشنی پہنچائی، ان پر حجت قائم کرتا ہے اور ان کے سامنے ہدایت کی راہ واضح کرتا ہے۔ چنانچہ : (یا یھا النسا قد جآء کم برھان من ربکم) ” لوگو ! تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل آچکی ہے۔“ یعنی تمہارے پاس حق کی تائید میں قطعی دلائل آچکے ہیں جو حق کو واضح کرتے ہیں اور اس کی ضد کو بیان کرتے ہیں۔ یہ براہین، دلائل عقلیہ، دلائل نقلیہ، آیات افقی اور آیات نفسی پر مشتمل ہیں، فرمایا : (سنریھم ایتنا فی الافاق و فی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق) (حم السجدہ :53/31) ” ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کی ذات میں نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ حق ان پر واضح ہوجائے گا۔ “ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (من ربکم) ’ د تمہارے رب کی طرف سے۔“ اس برہان و دلیل کی عظمت و شرف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ تمہارے رب کی طرف سے ہے جس نے تمہاری دینی اور دنیوی تربیت کی ہے۔ یہ اس کی تربیت ہی ہے جس پر اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے تمہیں دلائل عطا کئے تاکہ وہ صراط مستقیم کی طرف تمہاری راہنمائی کرے اور تمہیں نعمتوں سے بھیر ہوئی جنتوں تک پہنچائے۔ (وانزلنا الیکم نوراً مبیناً) ” اور اتارا ہم نے تمہاری طرف واضح نور“ وہ یہی قرآن عظیم ہے جو اولین و آخرین کے علوم، سچی خبروں، عدل و احسان اور بھلائی کے احکام اور ہر قسم کے ظلم اور شر سے ممانعت پر مشتمل ہے۔ لوگ اگر قرآن سے روشنی حاصل کر کے اپنی راہوں کو روشن نہیں کریں گے تو اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ اگر انہوں نے قرآن سے بھلائی کو حاصل نہ کیا تو بہت بڑی بدبختی میں پڑے رہیں گے۔ تاہم قرآن عظیم پر ایمان لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں : (١) (فاما الذین امنوا باللہ) ” پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے۔“ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتراف کیا اور یہ تسلیم کیا کہ وہ تمام اوصاف کاملہ سے متصف اور ہر نقص اور ہر عیب سے منزہ ہے۔ (واعتصموا بہ) ” اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے۔“ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ہاں پناہ لی اور اپنی قوت اور طاقت سے بری ہو کر اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہوئے۔ (فسید خلھم فی رحمۃ منہ و فضل) ” ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کی بہشتوں) میں داخل کرے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص رحمت سے ڈھانپ لے گا، انہیں نیکیوں کی توفیق عنایت کرے گا، انہیں بے پایاں ثواب عطا کرے گا اور ان سے بلائیں دور کرے گا۔ (ویھدیھم الیہ صراطا مستقیما) ” اور اپنی طرف (پہنچنے کا) سیدھا راستہ دکھائے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں علم و عمل کی توفیق اور انہیں حق اور اس پر عمل کی معرفت عطا کرے گا۔ (٢) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے، اللہ کے پاس پناہ نہ لی اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کر دے گا ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دے گا۔ انہوں نے ہدایت کی راہ کو اختیار نہ کیا بلکہ وہ واضح طور پر گمراہی میں جاپڑے۔ ایمان ترک کرنے پر یہ ان کی سزا ہے، پس ناکامی اور محرومی ان کا نصیب بن گئی ہے ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے عفو، عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں۔