سورة البقرة - آیت 57

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا۔[٧٣] اور (تمہارے کھانے کو) من و سلویٰ اتارا (اور کہا) یہ پاکیزہ چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں۔ اور (دیکھو! تمہارے اسلاف نے) ہم پر تو کوئی ظلم نہ کیا تھا بلکہ وہ اپنے آپ ہی پر ظلم کرتے رہے تھے

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

فرمایا : ﴿ وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ﴾” پھر ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تم پر ” مَنّ “ نازل کیا۔“ (الْمَنَّ) ہر قسم کے اس رزق کے لئے ایک جامع نام ہے جو بغیر کسی جدوجہد کے حاصل ہوتا ہو مثلاً سو نٹھ، کھمبی اور خبز (روٹی) (ایک) قسم کی نباتات) وغیرہ۔﴿وَالسَّلْوَىٰ﴾ایک چھوٹا سا پرندہ تھا جسے ” سُمانی“ (ایک قسم کی بٹیر) کہا جاتا ہے اس کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے۔ پس یہ من اور سلویٰ اس مقدار میں ان پر اترتے کہ ان کی خوراک کے لئے کافی ہوتے ﴿کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ﴾” ان پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں دیں۔“ یعنی ہم نے تمہیں ایسا رزق عطا کیا ہے کہ جیسا رزق آسودہ حال شہروں کے باشندوں کو بھی حاصل نہیں۔ مگر انہوں نے اس نعمت کا شکرادانہ کیا اور ان کے دلوں کی سختی اور گناہوں کی کثرت بدستور قائم رہی۔ ﴿ وَمَا ظَلَمُوْنا﴾ یعنی انہوں نے ہمارے احکام کے برعکس مخالف افعال کا ارتکاب کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا۔ کیونکہ اہل معاصی کی معصیت اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جیسے اطاعت گزاروں کی اطاعت اسے فائدہ نہیں پہنچاتی۔ ﴿ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ﴾” لیکن وہ اپنے ہی نفسوں پر ظلم کرتے تھے“ یعنی اس کا نقصان انہی کی طرف لوٹے گا۔