سورة النسآء - آیت 122

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے تو انہیں ہم ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قول میں اللہ سے بڑھ [١٦٢] کر اور کون سچا ہوسکتا ہے؟

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 122- یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشوتں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر علم، تصدیق اور اقرار کے ساتھ اس طرح ایمان لائیں جس طرح ان کو حکم دیا گیا ہے۔ (وعملوا الصلحت) ” اور نیک کام کرتے رہے۔“ یعنی وہ اعمال جو ایمان سے جنم لیتے ہیں اور یہ تمام مامورات کو شامل ہے، چاہے وہ فرض ہوں یا مستحب، ان کا تعلق اعمال قلب سے ہو، اعمال لسان سے ہو اور بقیہ اعمال جو ارح سے۔ ہر شخص کے لئے اس کے حال و مقام، اس کے ایمان اور عمل صالح کی تکمیل کے مطابق ثواب مرتب ہوتا ہے۔ ایمان و عمل میں جو کوتاہی واقع ہوتی ہے اس پر مترتب ہونے والا ثواب اس کی تلافی کردیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تتبع سے معلوم کیا جاتا ہے۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے اس پر مترتب ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (سند خلھم جنت تجری من تحتھا الانھر) ” ہم انہیں ان باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں“ جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو اس سے پہلے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ جنت میں مختلف انواع کے ماکولات، لذیذ قسم کے مشروبات، دلکش نظارے، حسین و جمیل بیویاں، خوبصورت محل، آرساتہ کئے ہوئے بالاخانے، پھل سے لدے ہوئے درخت، عجیب وغریب میوے، مسحور کن آوازیں، وافر نعمتیں، دوستوں کی مجلسیں اور جنت کے باغات میں اپنی یادوں کے تذکرے اور سب کچھ ہوگا۔ ان سب سے اعلیٰ اور جلیل ترین نعمت جو جنت میں عطا ہوگی وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا، روح کا اس کے قرب سے فیض یاب ہونا، آنکھوں سے اس کا دیدار کرنا اور کانوں سے اس کے خطاب کو سننا۔ یہ نعمت بندے کو ہر نعمت و مسرت فراموش کرا دے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثبات و استقامت عطا نہ کی گئی ہو تو بندے خوشی سے اڑ جائیں اور فرحت و مسرت سے مر جائیں۔ اللہ اللہ، کتنی شیریں ہوگی یہ نعمت اور کتنے بلند مرتبہ ہوں گے وہ نعامات جو رب کریم ان کو عطا کرے گا اور وہ بھلائی اور مسرت جو انہیں حاصل ہوگی۔ کوئی شخص ان کا وصف بیان نہیں کرسکتا اور ان تمام نعمتوں کا اتمام اور ان کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ان عالی شان منازل میں ہمیشہ رہیں گے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (خلدین فیھا ابداً وعداللہ حقا ومن اصدق من اللہ قیلاً ) ” اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے بڑھ کر سچا ہے۔“ اللہ عظیم نے سچ فرمایا ہے، اس کا قول اور اس کی بات سچائی کے بلند ترین مرتبے پر پہنچی ہوئی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام سچا ہے اور اس کی خبر سچی ہے، اس لئے اس کا کلام جس چیز پر دلالت کرتا ہے وہ بھی اس کے مطابق اور سچائی کو متضمن ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے کلام سے مراد ہے۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام سچا ہے اور سچائی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے خبر دیتے ہیں اور آپ صرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سے ہی کلام کرتے ہیں۔