سورة النسآء - آیت 117

إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَّرِيدًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

یہ مشرکین اللہ کو چھوڑ کر دیویوں [١٥٥] کو پکارتے ہیں، حقیقت میں وہ سرکش شیطان [١٥٦] ہی کو پکار رہے ہوتے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 117 یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں، مثلاً ” عزی“ اور ” مناۃ“ وغیرہ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بات کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہوسکتا ہے اور اس ہستی کے لئے اخلاص کو کیسے ترک کیا جاسکتا ہے جو اسمائے حسنیٰ، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امرو تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔ کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناءت کے اس انتہائی نچیل درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصور کرسکتا ہے نہ کوئی بیان کرنے والا بیان کرسکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کردیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر) (فاطر :6/35) ” وہ تو اپنے پیرو کاروں کے گروہ کو محض اس لئے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔ “ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لئے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا : (لاتخذن من عبادک نصیباً مفروضاً) ” میں ضرور لووں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ“ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے۔ ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا۔ (لاغوینھم اجمعین، الاعبادک منھم المخلصین) (ص :83-82/38) ” میں ضرور ان سب کو بہکاتا رہوں گا سوائے ان کے جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔ “ یہ شیطان خبیث کا خیال تھا جس کو اس نے نہایت جزم کے ساتھ ظاہر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اس کے وقوع کی خبر دی ہے۔ (ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الافریقاً من المومنین) (سبا :20/33) ” اور ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا قول سچ کر دکھایا کہ اہل ایمان کے ایک گروہ کے سوا سب نے اس کی پیروی کی۔“ یہی وہ مقررہ حصہ ہے جس کے بارے میں شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان سے ضرور حاصل کرے کے رہے گا۔ اس نے بتا دیا ہے کہ وہ ان سے کیا چاہتا ہے اور ان کے بارے میں اس کے کیا مقصاد ہیں۔ (ولاضلنھم) ” اور میں انہیں گمراہ کرتا رہوں گا۔“ یعنی میں انہیں صراط مستقیم سے بھٹکاؤں گا اور علم و عمل میں انہیں گمراہ کر کے رہوں گا۔ (ولامنینھم) ” اور انہیں امیدیں دلاتا رہوں گا۔“ یعنی میں ان کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں بھی دلاتا رہوں گا کہ انہیں وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو ہدایت یافتہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور یہ عین فریب ہے۔ پس اس نے ان کو مجرد گمراہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اس گمراہ کو ان کے سامنے آراستہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوئے اور یہ ان کی برائی میں مزید اضافہ ہے کہ انہوں نے اہل جہنم کے اعمال کئے جو عذاب کے موجب ہیں اور سمجھتے رہے کہ یہ اعمال انہیں جنت میں لے جائیں گے۔ ذرا یہود و نصاریٰ وغیرہ کا حال دیکھو، ان کا وہی رویہ ہے جس کی بابت اللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا : (لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودآ او نصریٰ تلک امانیھم) (البقرہ :111/2) ” یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔“ فرمایا : (کذلک زینا لکل امۃ عملھم) (الانعام :108/6) ” اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو ان کے سامنے آراستہ کردیا ہے۔“ اور فرمایا : (قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالاً، الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعاً) (الکھف :103,-103/18) ” کہہ دو کہ کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے کہ قیامت کے روزہ وہ اہل ایمان سے کہیں گے : (الم نکن معکم قالوا بلی ولکنکم فتنتم انفسکم وتربصتم وارتبتم وغرتکم الامانی حتی جآء امر اللہ و غرکم باللہ الغرور) (الحدید :13/58) ” کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہیں مگر تم نے اپنے تئیں فتنے میں ڈال لیا تھا اور ہمارے بارے میں حوادث زمانہ کے منتظر تھے اور تم شک میں مبتلا ہوئے۔ تمہیں آرزوؤں نے فریب میں مبتلا کئے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور دھوکے باز (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں فریب دیتا رہا۔ “ (ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام) ” اور یہ حکم دیتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں۔“ یعنی میں ان کے مویشیوں کے کان کاٹن کا حکم دوں گا (تاکہ علامت بن جائے کہ یہ غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور ہے) مثلاً ” بحیرہ“ ” سائبہ“” وصیلہ“ اور ” حام“ وغیرہ پس ایک کی طرف اشارہ کر کے تمام مراد لئے ہیں۔ گمراہی کی یہ قسم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرانے کی مقتضی ہے اور اسی میں فاسد اعتقادات اور ظلم و جور پر مبنی احکام بھی شامل ہیں جو بڑی گمراہیوں میں سے ہیں۔ (ولا مرنھم فلیغیرن خلق اللہ) ” اور میں انہیں حکم دوں گا پس وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے“ اس کا اطلاق ظاہری تخلیق پر ہوتا ہے یعنی گودنا، دانتوں کو باریک کرنا، چہرے سے بال اکھیڑنا اور دانتوں کے درمیان فاصلہ بنانا ان تمام چیزوں کے ذریعے سے شیطان نے لوگوں کو گمراہ کیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدل ڈالا۔ لوگوں کی یہ حرکتیں اس بات کو متضمن ہیں کہ یہ لوگ اللہ کی پیدئاش پر نارضا اور اس کی حکمت پر نکتہ چین ہیں، نیز ان کا اعتضاد ہے کہ وہ کام جو وہ اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں وہ اللہ کی تخلیق سے بہتر ہے، نیز یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور تدبیر پر بھی راضی نہیں ہیں۔ شیطان کا یہ کام باطنی تخلیق کی تبدیلی کو بھی شالم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حینف بنا کر اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے، ان میں قبولحق اور حق کو ترجیح دینے والوں کی فطرت تخلیق سے ہٹا دیا اور شر، شرک، کفر، فسق اور معصیت کو ان کے سامن آراستہ کردیا، اس لئے کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی محبت اور اس کی معرفت، وہ اس فطرت کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس مقام پر شیاطین بندوں کا اسی طرح شکار کرتے ہیں جس طرح درندے اور بھیڑیئے ریوڑ سے الگ ہونے والی بھیڑ بکریوں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو ان فتنہ زدہ لوگوں کا ہوا ہے۔ پس وہ بھی دنیاو آخرت کے خسارے میں پڑجاتے اور انہیں ناکامی اور گھاٹے کا منہ دیکھناپڑتا۔ ان فتنہ زدہ لوگوں کا یہ حشر اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اپنے رب اور اپنے پیدا کرنے والے سے منہ موڑ کر ایسے دشمن کو اپنا سرپرست بنا لیا جو ہر لحاظ سے ان سے برائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسراناً مبیناً) ” جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا۔“ جو دین و دنیا کے خسارے میں پڑجائے اور جسے اس کے گناہ اور نافرمانیاں ہلاک کر ڈالیں اس سے زیادہ واضح اور بڑا خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے؟ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم ہو کر ابدی بدبختی میں مبتلا ہوگئے۔ اس طرح جو کوئی اپنے آقا اور مولا ہی کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہر لحاظ سے فائدے میں رہتا ہے، ہر طرح سے فلاح پاتا ہے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اے اللہ ! جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز سے تو محروم کر دے اسے کوئی عطا نہیں کرسکتا۔ اے اللہ ! جن لوگوں کی تو نے سرپرستی فرمائی ان لوگوں کی معیت میں ہماری بھی سرپرستی فرما اور جن لوگوں کو تو نے عافیت سے نوازا ان کے ساتھ ہمیں بھی عافیت سے نوازا۔ (یعدھم ویمنیھم) ” وہ ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے۔“ یعنی شیطان ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں وعدہ بھی وعید بھی شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الشیطن یعدکم الفقر) (البقرہ :268/2) ” شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے“ وہ بندوں کو یہ وعید سناتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے تو محتاج اور تنگ دست ہوجائیں گے۔ وہ انہیں خوف دلاتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے راستے میں جہاد میں حصہ لیا تو وہ قتل ہوجائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (انما ذلکم الشیطن یخوف اولیآء ہ) (آل عمران :180/3) ” یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے خوف دلاتا ہے۔ “ جب بندے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ انہیں ہر ممکن طریقے سے جو اس کی عقل میں آسکے، ڈراتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بھلائی کا کام کرنے میں سست پڑجاتے ہیں۔ اسی طرح شیطان انہیں جھوٹی اور باطل تمناؤں میں مبتلا کرتا ہے اور تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تمنائیں تو محض سراب تھیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اولئک ماوءھم جھنم) ” ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔“ یعنی جس نے شیطان کی اطاعت کی اور اپنے رب سے روگردانی کی وہ شیطان کے پیروکاروں اور اس کے گروہ میں شامل ہوگیا، ان کا ٹھانا جہنم ہے۔ (ولایجدون عنھا محیصاً ) ” اور وہاں سے بھاگنے اور گلوخلاصی کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔“ بلکہ وہ جہنم میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ بدبخت لوگوں یعنی اولیائے شیطان کا انجام کار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش بخت لوگوں یعنی اولیائے رحمان کے انجام کا ذکران الفاظ میں فرمایا :