سورة النسآء - آیت 105

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ہم نے آپ کی طرف سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ جو کچھ بصیرت اللہ نے آپ کو عطا کی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان [١٤٣] فیصلہ کریں اور آپ کو بددیانت [١٤٤] لوگوں کی حمایت میں جھگڑا نہ کرنا چاہیے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 105 اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا، بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامرو نواہی عدل پر مبنی ہیں۔ (وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً) (الانعام :110/6) ” اور تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔ “ اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لئے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم) (النحل :33/16) ” ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کردیں۔“ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبین کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔ فرمایا : (بما ارئک اللہ) ” اللہ کی ہدایات کے مطابق“ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (وما ینطق عن الھوی، ان ھوالا وحی یوحی) (النحم :4-3/53) ” ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ “ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے، نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لئے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (بما ارئک اللہ) ” اللہ کی ہدایات کے مطابق“ اور یہ نہیں فرمایا : (بما رایت) ” جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے“ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لئے ظلم و جور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا : (ولا تکن للخآئنین خصیماً) ” اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو“ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔ آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصوصیات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ (واستغفر اللہ) ” اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔“ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے۔ (ان اللہ کان غفوراً رحیماً” بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے“ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم) ” اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں“ (الاختیان) اور (الخیانۃ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعملا ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لئے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ (ان اللہ لایحب من کان خواناً اثیماً) ” کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہوجائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لئے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا : (یستخفون من الناس ولایستخفون من اللہ وھو معھم اذیبیتون مالا یرضی من القول) ” وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللے سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب کہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں“ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو۔۔۔ بایں ہمہ۔۔۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے، حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی برأت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انہیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : (وکان اللہ بما یعملون محیطاً) ” اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ (ھانتم ھولآء جدلتم عنھم فی الحیوۃ الدنیا فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیمۃ ام من یکون علیھم وکیلاً) ” ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہوسکے گا“ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمہاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انہیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت ان کے خلاف ہوگی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ (یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق ویعلمون ان اللہ ھو الحق المبین) (النور :25/23) ” اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔“ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہوگی؟ اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھتے ” تو نے سستی اور کوتاہی کے وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کردیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرن کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرناپڑا؟ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ” فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کردی، اس کی لذت تو ختم ہوجائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ “ یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لئے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحتکو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المسعان پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ومن یعمل سوآء ویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجداللہ غفوراً رحیماً) ” اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پریشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔ پس اس سے جو گناہ صادر ہوچکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کردیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کردیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ” براعمل“ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہں، شامل ہے اور (سوء) ” برائی“ اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے، مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔ یہاں برے عمل کی تفسیر ” ظلم‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم اور نفس کے ظلم کی تفسیر ” ظلم اور گناہ“ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف وعدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ پھر فرمایا : (ومن یکسب اثماً فانما یکسبہ علی نفسہ) ” اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے“ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لئے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ولاتزروازرۃ وزراخری) (الانعام : 163/6) ” کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ مگر جب برائیاں غالب آجائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہوجاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہوجاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وکان اللہ علیماً حکیماً) ” اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے“ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ وانابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ومن یکسب خطیءۃ) ” جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے“ (ثم یرم بہ) ’ د پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو مہتمم کرے۔“ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے (بریاء) ” جو اس گناہ سے بری ہے۔“ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو (فقد احتمل بھتاناً واثما مبیناً) ” تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا“ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں : (١) گناہ کبیرہ کا ارتکاب (٢) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (٣) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لئے جھوٹ بولنا (٤) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کرا دینا اور خود کو سزا سے بچا لینا حالانکہ وہ حقیقی مجرم ہے۔ (٥) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور یدگر مفاسد۔ ان تمام مفاسد اور ہر ایک شر سے ہم اللہ تعالیٰ کی عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ (ولولا فضل اللہ علیک و رحمتہ لھمت طآئفۃ منھم ان یضلوک) ” اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا“ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھران نے مدینہ میں چوری اکا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انہوں نے نضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خیانت کا روں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لئے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں۔ (١) علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔ (٢) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انہی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا : (وما یضلون الا انفسھم) ” وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں“ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انہیں اپنا مقصد حاصل نہ ہوسکا اور انہیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وانزل اللہ علیک الکتب والحکمۃ) ” اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نالز فرمائی ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔ حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے، نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا : (وعلمک مالم تکن تعلم) ” اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے“ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان) (الشوری :52/72) ” آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟“ اور فرمایا : (ووجدک ضآلاً فھدی) (الضحی :8/93) ” اور اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔“ پھر اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علم کے ایسے مقام پر فائز ہوگئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علی الطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وکان فضل اللہ علیک عظیماً) ” اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے“ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہرجنس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔