سورة النسآء - آیت 101

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تمہارے لیے نماز [١٣٨] مختصر کرلینے میں کوئی حرج نہیں (خصوصاً) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں تشویش میں ڈال دیں گے۔ کیونکہ کافر تو بلاشبہ تمہارے کھلے دشمن ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 101 یہ دو آیات کریمہ سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت اور نماز خوف کے لئے اصل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (واذا ضربتم فی الارض) ” جب چلو تم زمین میں“ یعنی سفر کے دوران آیت کریمہ کا ظاہر سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کا تقاضا کرتا ہے سفر خواہ کیسا ہی ہ، خواہ معصیت کا سفر ہی کیوں نہ ہوجیسا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ جمہور فقہاء یعنی ائمہ ثلاثہ اور دیگر اہل علم آیت کے معنی اور مناسبت کے اعتبار سے آیت کے عموم کی تخصیص کرتے ہوئے معصیت کے سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کو جائز قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ رخصت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے سہولت ہے کہ جب وہ سفر کریں تو نماز میں قصر کرلیا کریں اور روزہ چھوڑ دیا کریں۔ یہ تخفیف گناہ کا سفر کرنے والے شخص کے حال سے مناسبت نہیں رکھتی۔ (فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوۃ) ” تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں“ یعنی تم پر کوئی حرج اور گناہ نہیں۔ یہ چیز قصر کے افضل ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ میں مذکورہ نفی حرج اس وہم کا ازالہ کرتی ہے جو بہت سے نفوس میں واقع ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو نماز قصر کے واجب ہونے کے بھی منفای نہیں جیسا کہ اس کی نظیر سورۃ بقرہ کی اس آیت میں گزر چکی ہے (ان الصفا والمروۃ من شعآئر اللہ) (البقرہ :108/2) ” صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔۔۔ آیت کے آخر تک“ اس مقام پر وہم کا ازالہ ظاہر ہے کیونکہ مسلمانوں کے ہاں نماز کا وجوب اس کی اس کامل صفت کے ساتھ متحقق ہے اور یہ وہم اکثر نفوس سے اس وقت تک زائل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس امر کا ذکر نہ کیا جائے جو اس کے منافی ہے۔ اتمام پر قصر کی افضیلت کو دو امور ثابت کرتے ہیں۔ اول : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے تمام سفروں کے دوران میں قصر کا التزام کرنا۔ ثانی :۔ قصر، بندوں کے لئے وسعت، رخصت اور رحمت کا دروازہ ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی رخصتوں سے استفادہ کیا جائے۔ جس طرح وہ یہ بات ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کا کوئی کام کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان تقصروا من الصلوۃ) ” نماز میں سے کچھ کم کر دو“ اور یہ نہیں فرمایا (ان تقصروا الصلوۃ) ” نماز کو کم کر دو‘ اس میں دو فائدے ہیں۔ اول :۔ اگر یہ کہا ہوتا کہ ” نماز کو کم کردو“ تو قصر غیر متضبط اور غیر محدود ہوتی اور بسا اوقات یہ بھی سمجھا جاسکتا تھا کہ اگر نماز کا بڑا حصہ کم کردیا جائے اور صرف ایک رکعت پڑھ لی جائے، تو کافی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے (من الصلوۃ) کا لفظ استعمال فرمایا، تاکہ وہ اس امر پر دلالت کرے کہ قصر محدود اور منضبط ہے اور اس بارے میں اصل مرجع وہ نماز قصر ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کرام کے فعل سے ثابت ہے۔ (ثانی): حرف جار (من) تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ صرف بعض فرض نمازوں میں قصر ہے تمام نمازوں میں جائز نہیں۔ کیونکہ فجر اور مغرب کی نماز میں قصر نہیں۔ صرف ان نمازوں میں قصر کر کے دو رکعت پڑھی جاتی ہیں جن میں چار رکعتیں فرض کی گئی ہیں۔ جب یہ بات متحقق ہوگئی کہ سفر میں نماز قصر ایک رخصت ہے تو معلوم ہونا چاہئے کہ مفسرین میں اس قید کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں وارد ہوئی ہے۔ (ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا) ” اگر تم اس بات سے ڈرو کہ کافر تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے“ جس کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ نماز قصر اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ یہ دو امور ایک ساتھ موجود نہ ہوں سفر اور خوف۔ ان کے اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ (ان تقصروا) سے مراد صرف عدد رکات میں کمی ہے؟ یا عدد رکعات اور صفت نماز دونوں میں کمی ہے؟ اشکال صرف پہلی صورت میں ہے اور یہ اشکال امیر المومنین جناب عمر بن خطاب کو لاحق ہوا تھا۔ حتی کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا ” یا رسول اللہ ! ہم نماز میں قصر کیوں کرتے ہیں حالانکہ ہم مامون ہوتے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا : (ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا) ” اگر تمہیں کافروں کا خوف ہو کہ وہ تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے“ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا :” یہ اللہ تعالیٰ کی طر سے تم پر صدقہ ہے پس تم اللہ تعالیٰ کے صدقہ کو قبول کرو۔“ (١) او کما قال علیہ السلام) اس صورت میں یہ قید ان غالب حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد کی گئی تھی جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام دوچار تھے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اکثر سفر جہاد کے لئے ہوتے تھے۔ اس میں دوسرا فائدہ یہ ہے کہ قیصر کی رخصت کی مشروعیت میں حکمت اور مصلحت بیان کی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں وہ انتہائی مشقت بیان کی گئی ہے، جس کا قصر کی رخصت کے بارے میں تصور کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے سفر اور خوف کا اجتماع اور اس سے یہ بات لازم نہیں کہ اکیلے سفر میں قصر نہ کی جائے جو کہ مشقت کا باعث -1 صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین و قصرھا، حدیث :1083 ہے۔ رہی قصر کی دوسری صورت یعنی عدد رکعات اور نماز کی صفت میں قصر تو یہ قید اپنے اپنے باپ کے مطابق ہوگی۔ یعنی انسان کو اگر سفر اور خوف دونوں کا سامنا ہو تو عدد اور صفت دونوں میں قصر کی رخصت ہے۔ اگر وہ بلا خوف کسی سفر پر ہے تو صرف عدد رکعات میں قصر ہے اور اگر صرف دشمن کا خوف لاحق ہے تو صرف وصف نماز میں قصر ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ میں نماز خوف کی صفت بیان فرمائی ہے۔ (واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ) ” اور (اے پیغمبر !) جب آپ ان (مجاہدین کے لشکر میں ہوں) اور ان کو نماز پڑھانے لگو۔“ یعنی جب آپ ان کے ساتھ نماز پڑھیں اور اس کے ان واجبات کو پورا کریں جن کا پورا کرنا آپ پر اور آپ کے اصحاب پر لازم ہے۔ پھر اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر بیان فرمائی : (فلتقم طآئفۃ منھم معک) ” تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز کے لئے کھڑا ہو“ اور دوسری جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہوجیسا کہ آیت کا ٹکڑا (فاذا سجدوا) ” جب وہ سجدہ کرچکیں۔“ اس پر دلالت کرتا ہے، یعنی وہ لوگ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز میں شریک ہیں اپنی نماز مکمل کرلیں۔ یہاں نماز کو سجدے سے تعبیر کیا ہے تاکہ سجدے کی فضیلت ظاہر ہو، نیز یہ کہ سجدہ نماز کا رکن بلکہ سب سے بڑا رکن ہے۔ (فلیکونوا من ورآئکم ولتات طآئفۃ اخری لم یصلوا) ” تو یہ تمہارے پیچھے آجائیں اور وہ دوسری جماعت آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی، اور یہ وہ گروہ ہے جو دشمن کے مقابلے میں کھڑا تھا۔ (فلیصلوا معک) ” اب یہ گروہ آپ کے ساتھ نماز پڑھے۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے گروہ کے نماز سے چلے جانے کے بعد امام نماز میں باقی رہے اور دوسرے گروہ کا اتنظار کرے جب دوسرا گروہ آجائے تو ان کے ساتھ اپنی باقی نماز پڑھے پھر بیٹھ جائے اور ان کا اتنظار کرے جب وہ اپنی نماز مکمل کرلیں تو ان کے ساتھ سلام پھیرے۔ یہ نماز خوف ادا کرنے کے متعدد طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز خوف کے متعدد طریقے مروی ہیں۔ ان تمام طریقوں سے نماز پڑھنا جائز ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ نماز با جماعت دو وجوہ سے فرض عین ہے۔ اول :۔ اللہ تعالیٰ نے خوف کی اس شدید حالت میں یعنی دشمن کے حملہ کے خوف کی حالت میں بھی جماعت کے ساتھ نماز کا حکم دیا ہے۔ جب اس شدید حالت میں بھی جماعت کو واجب قرار دیا ہے تو امن و اطمینان کی حالت میں اس کا واجب ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ثانی : نماز خوف ادا کرنے والے نماز کی بہت سی شرئاط اور لوازم کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس نماز میں نماز کو باطل کرنے والے بہت سے افعال کو نظر انداز کر کے ان کو معاف کردیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ صرف جماعت کے وجوب کی تاکید کی بنا پر ہے، کیونکہ فرض اور مستحب میں کوئی تعارض نہیں۔ اگر جماعت کے ساتھ نماز کا پڑھنا فرض نہ ہوتا، تو اس کی خاطر نماز کی ان واجبات کو ترک کرنے کی کبھی اجازت نہ دی جاتی۔ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ افضل یہ ہے کہ ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ اگر ایسا کرنا کسی خلل کا باعث ہو تو متعدد دائمہ کے پیچھے نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کے اجتماع و اتفاق اور ان کے عدم افتراق کی خاطر ہے، تاکہ یہ اتفاق ان کے دشمنوں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈال دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز خوف کے اندر مسلح اور ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ نماز خوف میں اگرچہ کچھ زائد حرکات ہوتی ہیں اور نماز کے بعض احوال چھوٹ جاتے ہیں تاہم اس میں ایک راجح مصلحت ہے اور وہ ہے نماز اور جہاد کا اجتماع اور ان دشمنوں سے ہوشیار رہنا جو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور ان کے مال و متاع لوٹنے کے سخت حریص ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ود الذین کفروالو تغفلون عن اسلحتکم وامتعتکم فیمیلون علیکم میلۃ واحدۃ) ” کافر چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے بے خبر ہوجاؤ تو وہ تم پر اچانک دھاوا بول دیں“ پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے عذر کو قبول فرمایا جو کسی مرض یا بارش کی وجہ سے اپنا اسلحہ اتار دیتا ہے مگر بایں ہمہ وہ دشمن سے چوکنا ہے۔ (ولا جناح علیکم ان کان بکم اذی من مطر او کنتم مرضی ان تضعوآ اسلحتکم وخذوا حذرکم ان اللہ عد للکفرین عذاباً مھیناً” ہاں ! اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں اس وقت تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تمہیں تکلیف ہو بوج ہبارش کے یا تم بیمار ہو اور بچاؤ کی چیزیں ساتھ رکھو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ اور اس کا رسوا کن عذاب یہ ہے کہ اس نے اہل ایمان اور اپنے دین کے موحدین انصار کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کو جہاں کہیں پائیں ان کو پکڑیں اور ان کو قتل کریں، ان کے ساتھ جنگ کریں، ان کا محاصرہ کریں، ہر جگہ ان کے لئے گھات لگائیں اور ہر حال میں ان سے چوکنا رہیں۔ ان کی طرف سے کبھی غافل نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ کفار اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حم دو ثنا ہے کہ اسنے اہل ایمان پر احسان فرمایا اور اس نے اپنی مدد اور تعلیم کے ذریعے ان کی تائید فرمائی اگر وہ اس تعلیم پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہوں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوسکتا اور کسی زمانے میں بھی دشمن ان پر غالب نہیں آسکتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد : فاذا سجدوا فلیکونوا من ورآئکم) ” جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہوجائیں۔“ دلالت کرتا ہے کہ اس گروہ نے دشمن کے مقابلے میں جانے سے پہلے اپنی نماز مکمل کرلی تھی، اور یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلام پھیرنے سے پہلے دوسرے گروہ کے منتظر تھے، کیونکہ پہلے ذکر فرمایا کہ وہ گروہ نماز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا ہو۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی مصاجت کی خبر دی۔ پھر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر فعل کو ان کی طرف مضاف کیا یہ چیز ہمارے اس موقف پر دلالت کرتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (ولتات طآئفۃ اخری لم یصلوا فلیصلوا معک) ” پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے“ اس امر پر دلیل ہے کہ پہلا گروہ نماز پڑھ چکا تھا۔ اور دوسرے گروہ کی تمام نماز امام کی معیت میں پڑھی گئی۔ ان کی پہلی رکعت حقیقی طور پر امام کے ساتھ تھی اور دوسری حکمی طور پر۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ امام ان کا انتظار کرے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز مکمل کرلیں پھر ان کیساتھ سلام پھیرے۔ یہ چیز غور کرنے والے پر صاف واضح ہے۔