سورة النسآء - آیت 99

فَأُولَٰئِكَ عَسَى اللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

کیونکہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بخش دینے والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 99 اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے سخت وعید آئی ہے جو ہجرت کی قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا اور دارالکفر ہی میں مر جاتا ہے۔ کیونکہ جب فرشتے اس کی روح قبض کریں گے تو اس کو سخت زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے (فیم کنتم) ” تم کس حال میں تھے“ اور کیسے تم نے اپنے تشخص کو مشرکین کے درمیان ممیز رکھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے اور بسا اوقات اہل ایمان کے خلاف تم نے کفار کی مدد کی، تم خیر کثیر، اللہ کے رسول کی معیت میں جہاد، مسلمانوں کی رفاقت اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی معاونت کی سعادت سے محروم رہے۔ (قالواکنا مستضعفین فی الارض) وہ کہیں گے کہ ہم کمزور، مجبور اور مظلوم تھے اور ہجرت کی قدرت نہ رکھتے تھے۔ حالانکہ وہ اپنے اس قول میں سچے نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے اور ان کو وعید سنائی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ اس نے حقیقی مستضعفین کو مستثنیٰ قرار دیا ہے اس لئے فرشتے ان سے کہیں گے : (الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھا جروا فیھا) ” کیا اللہ کی زمین وسیع و فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر کے چلے جاتے“ یہ استفہام تقریری ہے یعنی ہر ایک کے ہاں یہ چیز متحقق ہے کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ بندہ مومن جہاں کہیں بھی ہو اگر وہاں اپنے دین کا اظہار نہیں کرسکتا تو زمین اس کے لئے بہت وسیع ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ فایای فاعبدون) (العنکبوت :56/29) ” اے میرے بندوں جو ایمان لائے ہو بے شک میری زمین بہت وسیع ہے پس میری ہی عبادت کرو۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں جن کے پاس کوئی عذر نہیں، فرمایا : (فاولئک ماوءھم جھنم وسآئت مصیراً) ” یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے“ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ اس میں سبب موجب کا بیان ہے جس پر، اس کی شرئاط کے جمع ہونے اور موانع کے نہ ہونے کے ساتھ، مقتضا مرتب ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی مانع اس مقتضا کو روک دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ ہجتر سب سے بڑا فرض ہے اور اس کو ترک کرنا حرام بلکہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس شخص نے وفات پائی اس نے اپنا وہ رزق، عمر اور عمل پورا کرلیا جو اس کے لئے مقدر کیا گیا تھا۔ یہ دلیل لفظ ” توفی“ سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اگر اس نے وہ سب کچھ پورا نہیں کیا جو اس کے لئے مقدر کیا گیا تھا تو لفظ ’ دتوفی“ کا اطلاق صحیح نہیں۔ اس آیت میں فرشتوں پر ایمان لانے اور ان کی مدح کی دلیل بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اثبات، ان کی تحسین اور اپنی موافقت کے انداز میں فرشتوں سے خطاب کیا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حقیقی مستضعفین کو مستثنیٰ قرار دیا جو کسی وجہ سے ہجتر کرنے پر قادر نہیں۔ فرمایا : (ولا یھتدون سبیلاً) ” نہ وہ کوئی راستہ جانتے ہیں۔“ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (فاولئک عسی اللہ ان یعفوعنھم وکان اللہ عفوا غفوراً) ” امید ہے کہ ان لوگوں کو اللہ بخش دے اور اللہ بہت درگزر کرنے والا اور نہایت بخشنے والا ہے“ (عسی) اور اس کا ہم معنی کلمہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور احسان کے تقاضے کے مطابق اس کو لازم کرتا ہے۔ جو کوئی کچھ نیک اعمال بجال لاتا ہے اس کو ثواب کی امید دلانے میں فائدہ ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص ہے جو پوری طرح عمل نہیں کرتا اور نہ وہ اس عمل کو اس طریقے سے بجا لاتا ہے جو اس کے لئے مناسب ہے بلکہ وہ کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہے لہٰذا وہ اس ثواب کا مستحق قرار نہیں پاتا۔ واللہ اعلم۔ آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی امر واجب کی تعمیل کرنے سے عاجز ہو وہ معذور ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد سے عاجز رہنے والوں کے بارے میں فرمایا : (لیس علی الاعی حرج ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج) (افتح :18/28) ” نہ تو اندھے کے لئے کوئی گناہ ہے نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر“ اور تمام احکام کی عمومی اطاعت کے بارے میں فرمایا : (فاتقوا اللہ ما استطعتم) (التغابن :16/63) ” اپنی استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرو“۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اذا امرتکم بشیء فاتوا منہ ما استطعتم) ” جس چیز کا میں تمہیں حکم دوں مقدور بھر اس پر عمل کرو“ (١) جب انسان پوری کوشش کرتا ہے مگر اس پر ہر قسم کے حیلے کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں تب اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوتا کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے : (لایستطیعون حیلہ) ” وہ کوئی تدبیر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے“ یعنی وہ لاچار ہیں۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ حج و عمرہ اور اس قسم کی دیگر عبادات میں جن میں سفر کی ضرورت پیش آتی ہے، رہنمائی کرنے والے کا ہونا بھی ” استطاعت“ کی شرطوں میں سے ہے۔ (١) صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، حدیث :1338