سورة النسآء - آیت 51

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَٰؤُلَاءِ أَهْدَىٰ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت پر بھی غور کیا جنہیں کتاب کا کچھ علم دیا گیا ہے۔ وہ جبت [٨٣] اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان ایمان والوں سے تو یہی لوگ زیادہ ہدایت یافتہ ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 51-57 یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں۔ (ویقولون للذین کفروا) ” اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔“ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے : (ھولآء اھدی من الذین امنوا سبیلا) ” طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدیات پر ہیں۔“ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کرلے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟ کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرائے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کتکابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے۔۔۔ اس دنیا پر فضیلت دی جاسکتی ہے جو اللہ رحمٰن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتی کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کے قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟۔۔۔۔۔۔ کیا یہ تفصیل محض ہذیان نہیں؟ ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اولئک الذین لعنھم اللہ) ” یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور کردیا اور انہیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا۔ (ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیراً) ” اور جس پر اللہ لعنت کر دے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤ گے۔“ جسے اللہ تعالیٰ دھتکار دے تو اس کے لئے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگراین کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔ (ام لھم نصیب من الملک) ” کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے؟“ کہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بنا پر جس کو چاہیں اور جس پر چاہیں فضیلت دیں اور تدبیر مملکت میں اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں ؟ اگر وہ ایسے ہوتے تو وہ بہت زیادہ بخل سے کام لیتے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فاذا یعنی اگر اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہوتا ہے، تب (لا یوتون الناس نقیراً) ” وہ لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیتے۔“ یعنی وہ لوگوں کو تھوڑی سی چیز بھی نہ دیتے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ (کائنات کی) بادشاہی اور اقتدار میں ان کا حصہ ہے۔ انتہائی شدید بخل ان کا وصف بیان کیا ہے۔ یہ ہر ایک کے نزدیک تسلیم شدہ اور متحقق استفہام انکاری ہے۔ (ام یحسدون الناس علی مآ اتھم اللہ من فضلہ) ” یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے“ یعنی یہ کہنے پر ان کو بزعم خود ان کے اللہ تعالیٰ کے شریک ہونے نے آمادہ کیا ہے کہ جس کو چاہیں فضیلت دیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان کے ساتھ حسد اس کا باعث تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان کو اپنے فضل سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل کے لئے یہ کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ (فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیماً) ” پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بڑی سلطنت عطا فرمائی ہے“ یہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کو نوازا، یعنی نبوت، کتاب اور حکومت جو اس نے اپنے بعض انبیاء کو عطا کی جیسے داؤد اور سلیمان اللہ تعالیٰ کے مومن بندوں پر یہ نعمتیں ہمیشہ سے چلی آرہی ہیں۔ پس وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت، آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت اور آپ کے اقتدار کا کیسے انکار کرسکتے ہیں۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے افضل، سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معفرت رکھنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔ (فمنھم من امن بہ) ” پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔“ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے، اس لئے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے (ومنھم من صد عنہ) اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لئے اس سے اعراض کیا اس لئے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہوگئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ (وکفی بجھنم سعیراً) ” اور (ان کے لئے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے“ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء کا انکار کیا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان الذین کفروا بایتنا سوف نصلیھم ناراً ) ” جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے“ یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہوگی۔ (کلما نضجت جلودھم) ” جب ان کی کھالیں گل جائیں گی۔“ (بدلنھم جلودا غیر ھا لیذوقوا العذاب) ” ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں“ تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔ چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان اللہ کان عزیزاً حکیماً) ” یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔ (والذین امنوا) ” اور جو لوگ ایمان لائے۔“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے (وعملوا الصلحت) ” اور عمل نیک کرتے رہے۔“ یعنی وہ واجبات اور مستحبات پر عمل کرتے ہیں۔ (سند خلھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ابدالھم فیھا ازواج مطھرۃ) ” ہم عنقریب انہیں ان جنتوں میں یل جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لئے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی“ یعنی یہ بیویاں ان رذیل عادات اور گندے اخلاق اور ہر میل اور عیب سے پاک ہوں گی جن میں دنیا کی عورتیں ملوث ہوتی ہیں (وندخلھم ظلاً ظلیلاً) ” اور ہم انہیں گھنے سائے میں داخل کریں گے۔“ یعنی ہم انہیں ہمیشہ رہین والے سائے میں داخل کریں گے۔