سورة النسآء - آیت 39

وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ آمَنُوا بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللَّهُ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِهِمْ عَلِيمًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور ان کا کیا بگڑتا تھا اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آتے اور جو اللہ نے انہیں مال و دولت دیا تھا [٧٢] اس سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے۔ اور اللہ انہیں خوب جاننے والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 39 یعنی ان کے لئے کون سا حرج اور ان پر کون سی مشقت ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں، جو کہ سراسر اخلاص ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں وہ مال خرچ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے اور جس مال سے ان کو نوازا ہے۔ تب اس صورت میں وہ اخلاص اور انفاق کو جمع کریں گے۔ چونکہ اخلاص ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک سرنہاں ہے جس کی اطلاع صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بندے کے تمام احوال کو جانتا ہے، چنانچہ : (وکان اللہ بھم علیماً) ” اللہ ان سب کو خوب جانتا ہے“