سورة النسآء - آیت 27

وَاللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَن تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر نظر رحمت سے متوجہ ہو مگر جو لوگ اپنی خواہشات [٤٦] کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور تک چلے جاؤ

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 27 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (یرید اللہ لیبین لکم) ” اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے بیان کرے۔“ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھرل کر بیان کرتا ہے (ویھدیکم سنن الذین من قبلکم) اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی ابنیائے کرام اور ان کے متعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمہارے سامنے اسے پوری طرح واضح کردیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کردیا تھا اور تمہیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا (ویتوب علیکم) ” اور رجوع کرے تم پر“ یعنی اللہ تم پر تمہارے تمام احوال میں اور تمہارے لئے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمہارے لئے ان حدود پر ٹھہرناممکن ہوجاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفا کرتے ہو جو اس نے تمہارے لئے حلال ٹھہرایا ہے۔ پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے پیدا کی ہے، تمہارے گناہ کم ہوجاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کردیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثناء ہے۔ (واللہ علیم حکیم) ” اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمہیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمہیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ و جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔ (واللہ یرید ان یتوب علیکم) ” اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ایسی توبہ (رجوع) کے ساتھ تمہاری طرف توجہ کرنا چاہتا ہے جو تمہاری پراگندگی کو درست کرے، تمہارے تفرقہ کو جمعیت قلبی میں اور تمہارے بعد کو قرب میں بدل دے۔ (ویرید الذین یتبعون الشھوب) ” اور چاہتے ہیں وہ جو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔“ یعنی وہ لوگ جو اپنی شہوات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ اپنے محبوب کی رضا پر ان شہوات کو ترجیح دیتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ لوگ کفار اور نافرمانوں کی اصناف میں سے ہیں جو اپنی خواہشات کو اپنے رب کی اطاعت پر مقدم رکھتے ہیں پس یہ لوگ چاہتے ہیں (ان تمیلوا میلاً عظیماً) ” کہ تم (کجی کی طرف) بہت زیادہ جھک جاؤ“ یعنی تم صراط مستقیم سے انحراف کر کے ان لوگوں کی راہ پر چل نکلو جو مغصوب اور گمراہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اللہ رحمان کی اطاعت سے ہٹا کر شیطان کی اطاعت کی طرف پھیر دیں اور ہر قسم کی سعادت کی حدود سے نکال کر جو کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں پنہاں ہے، شقاوت اور بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیں جو کہ شیطان کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ جب تم نے یہ پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمہاری اصلاح، تمہاری فلاح اور تمہاری سعادت ہے اور یہ کفار جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں تمہیں ان امور کا حکم دیتے ہیں جس میں تمہارے لئے انتہائی خسارہ اور بدبختی ہے۔ پس تم ان دونوں داعیوں میں سے صرف اسے منتخب کرو جو چنے جانے کا زیادہ مستحق ہے اور دونوں راستوں میں سے وہ راستہ اختیار کرو جو زیادہ بہتر ہے۔