سورة النسآء - آیت 14

وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اللہ کی حدود [٢٦] سے آگے نکل جائے اللہ اسے دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اسے رسوا کرنے والا عذاب ہوگا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 14 یہ تفاصیل جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے میراث کے ضمن میں کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جن پر رکنا، ان سے تجاوز نہ کرنا اور ان میں کوتاہی سے بچنا فرض ہے اور اس میں امر کی دلیل ہے کہ وارث کے لئے وصیت منسوخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام ورثاء کے حصے مقرر کردیئے ہیں اور اس کے بعد فرمایا : (تلک حدود اللہ) ” یہ اللہ کی حدیں ہیں“ بنا بریں وارث کے لئے اس کے حق سے زیادہ وصیت کرنا (منع کردہ) تجاوز میں داخل ہے۔ نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (لاوصیۃ لوارٹ) (١) ” کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں“ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی طور پر اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا اور نافرمانی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ تاکہ اس عمومی اطاعت کے حکم میں فرائض (وراثت) کی حدود کا التزام اور اس سے تجاوز نہ کرنا بھی شامل ہوجائے۔ فرمایا : (ومن یطع اللہ ورسولہ) ” اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کو بجا لا کر، جس میں سب سے بڑی چیز توحید میں ان کی اطاعت کرنا ہے، پھر اوامر میں ان کے درجات کے مطابق اطاعت کرنا اور ان کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا ہے، جن میں سب سے بڑا ممنوع اللہ کے ساتھ شرک ہے، پھر دوسرے معاصی ہیں، ان کی درجہ بندی کے ساتھ۔ (یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا) ” اے اللہ باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے“ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور منہیات سے بچتا ہے وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا اور اسے جہنم سے نجات ملے گی۔ (وذلک الفوز العظیم) ” یہی وہ بڑی کامیابی ہے“ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات کے حصول کی ضمانت ہے اور اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے ثواب اور اس کی دائمی نعمتوں سے بہرہ ور ہوا جاسکتا ہے جن کا وصف کوئی بیان نہیں کرسکتا۔ (ومن یعص اللہ و رسولہ) ” اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا“ اور نافرمانی میں کفر اور اس سے کم تر گناہ سب شامل ہیں۔ یہاں خوارج کے لئے کوئی شبہ کی گنجائش نہیں جو گناہ گاروں کے کفر کے قائل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت پر دخول جنت کو مترتب کیا ہے اور اپنی نافرمانی اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی پر دخول جہنم کو مترتب کیا ہے۔ پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کامل اطاعت کرتا ہے وہ بلا عذاب جنت میں داخل ہوگا، اسی طرح جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل نافرمانی کرتا ہے، جس میں شرک اور دیگر گناہ بھی شامل ہیں وہ جہنم میں داخل ہوگا اور ہمیشہ وہاں رہے گا اور جس میں اطاعت اور نافرمانی دونوں مجتمع ہیں تو گویا اس میں اس کی اطاعت اور نافرمانی کی مقدار کے مطابق ثواب اور عذاب کی موجبات موجود ہیں اور نصوص متواترہ دلالت کرتی ہیں کہ موحدین جن کے ساتھ اطاعت توحید ہے، جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ پس جن کے ساتھ توحید ہے، وہ توحید ان کے جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہے (یعنی ایسے لوگ اپنی نافرمانیوں کی سزا بھگت کر بالآخر جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔)