سورة النسآء - آیت 8

وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور تقسیم ترکہ کے موقع پر اگر قرابت والے (غیر وارث) یتیم اور مسکین موجود ہوں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو اور ان سے اچھے طریقہ [١٤] سے بات کرو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 8 یہ اللہ تعالیٰ کے بہترین اور جلیل ترین احکام میں سے ہے جو ٹوٹے دلوں کو جوڑتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واذا حضر القسمۃ) یعنی میراث کی تقسیم کے وقت (اولوا القربی) یعنی وہ رشتہ دار جو میت کے واثر نہیں ہیں اور اس کا قرینہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (القسمۃ) ہے کیونکہ ورثاء تو وہ لوگ ہیں جن میں وراثت تقسیم ہوگی (والیتمی والمسکین) ” یتیم اور مساکین“ یعنی فقراء میں سے مستحق لوگ (فارزقوھم منہ) یعنی اس مال میں سے جو تمہیں بغیر کسی کدو کاوش اور بغیر کسی محنت کے حاصل ہوا۔ ان کو بھی جتنا ہوسکے عطا کر دو۔ کیونکہ ان کا نفس بھی اس کا اشتیاق رکھتا ہے اور ان کے دل بھی منتظر ہیں۔ پس تم ان کے دل جوئی کی خاطر اتنا ملا ان کو دے دو جس سے تمہیں نقصان نہ ہو اور ان کے لئے فائدہ مند ہو۔ اس معنی سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہا گر انسان کے سامنے کوئی چیز رکھی جائے اور وہاں کوئی ایسا فرد موجود ہو جو کسی آس میں اس پر نظر رکھتا ہو تو اس شخص کے لئے مناسب ہے کہ جتنا بھی ہوسکے اس کو عطا کر دے۔ جیسا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا پیش کرے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اور اگر ایسا نہ کر کسے تو اسے ایک یا دو لقمے عطا کر دے۔“ (١) صحابہ کرام کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان کے سامنے موسم کا پہلا پھل آتا تو وہ اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کرتے، آپ اس میں برکت کی دعا فرماتے اور پھر وہاں موجود سب سے چھوٹے بچے کو عطا کردیتے، یہ جانتے ہوئے کہ یہ ننھا بچہ نہایت شدت سے اس کی خواہش رکھتا ہوگا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہے جب عطا کرنا ممکن ہو اگر عطا کرنا ممکن نہ ہو۔۔۔ مثلاً یہ بے سجمھ لوگوں کا حق ہے یا اس سے بھی اہم کوئی اور وجہ ہو تو ایسی صورت میں (قولا معروفاً) ان کو اچھی اور غیر قبیح بات کہہ کر بھلے طریقے سے لوٹا دو۔