سورة النسآء - آیت 3

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں ان سے انصاف [٥] نہ کرسکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں، دو، دو، تین، تین، چار، چار تک نکاح کرلو۔ [٦] لیکن اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔ یا پھر وہ کنیزیں ہیں جو تمہارے قبضے میں ہوں۔[٦۔ ١] بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ بات قرین صواب ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 3-4 یعنی اگر تمہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ تم ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکو گے جو تمہاری پرورش اور سرپرستی میں ہیں اور تمہیں ڈر ہے کہ ان کے ساتھ تمہاری محبت نہ ہونے کی وجہ سے تم ان کے حقوق ادا نہ کرسکو گے۔ تو تم ان کے علاوہ دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کرلو (ماطاب لکم من النسآء) ” عورتوں میں سے جو تمہیں اچھی لگیں“ یعنی، دین، مال، حسب و نسب اور حسن و جمال جیسی دیگر صفات جو نکاح کی ترغیب دیتی ہیں، ان صفات کی حامل عورتوں میں سے جس کے ساتھ نکاح کرنے کا اختیار حاصل ہو، اپنی خواہش اور صوابدید کے مطابق نکاح کرلو۔ نکاح کے انتخبا کے لئے بہترین صفت دین ہے جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” عورت سے چار صفات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال، اس کے حسن و جمال، اس کے حسب و نسب اور اس کے دین کی وجہ سے، تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں، تو دین دار عورت سے نکاح کرنے کی کوشش کر۔“ (١) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ نکاح سے قبل عوتر کو منتخب کرلے۔ بلکہ شارع نے تو یہاں تک مباح کیا ہے کہا نسان جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اسے ایک نظر دیکھ لے تاکہ یہ نکاح بصیرت کی بنیاد پر ہو پھر اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی تعداد کا ذکر کیا ہے جن کے ساتھ نکاح کرنا مباح ہے چنانچہ فرمایا : (مثنی و ثلث وبرع) ” دو دو“ تین تین اور چار چار“ یعنی جو کوئی دو بیویاں رکھنا چاہتا ہے وہ دو دو بیویاں رکھ لے اگر تین بیویوں سے یا چار بیویوں سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو تین یا چار سے نکاح کرلے۔ البتہ چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح نہ کرے کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق اللہ تعالیٰ کے احسان کو بیان کرنے کے لئے ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو عدد مقرر کردیا ہے بالاتفاق اس سے زیادہ بیویاں جائز نہیں۔ ایک سے زیادہ بیوی کی اجاتز کی وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات مرد کی شہوت ایک بیوی سے پوری نہیں ہوتی اس لئے یکے بعد دیگرے چار بیویاں جائز ہیں کیونکہ شاذ اور نادر صورت کے سوا، چار بیویاں کافی ہوتی ہیں۔ یہ چار بیویاں بھی مرد کے لئے صرف اس وقت جائز ہیں جب وہ ظلم وجور کرنے سے محفوظ ہوا اور اسے یقین ہو کہ وہ چار بیویوں کے حقوق پورے کرسکے گا اور گار اسے ظلم و زیادتی اور حقوق کی عدم ادائیگی کا خدشہ ہو تو اسے صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہئے۔ یا اس کے ساتھ لونڈیوں پر اکتفا کرے۔ لونڈیوں میں وظیفہ زن و شو کی مساوی تقسیم واجب نہیں۔ (ذلک) ” یہ“ یعنی ایک بیوی یا لونڈیوں پر اکتفا کرنا (ادنی الا تعولوا) ” اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم نہ کرو۔“ اس آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہا گر بندے کو کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جہاں اس سے ظلم و جور کے ارتکاب کا خدشہ ہو اور اسے اس بات کا خوف ہو کہ وہ اس معاملے کے حقوق پورے نہیں کرسکے گا۔ خواہ یہ معاملہ مباحات کے زمرے میں کیوں نہ آتا ہو تو اس کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی تعرض کرے۔ بلکہ وہ اس میں بچاؤ اور عافیت کا التزام کرے۔ کیونکہ عافیت بہترین چیز ہے جو بندے کو عطا کی گئی ہے۔ چونکہ اکثر لوگ اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں اور ان کے حقوق غصب کرلیتے ہیں۔ خاص طور پر حق مہر (اکثر) بہت زیادہ ہوتا ہے یہ مہر ایک ہی بار پورے کا پورا ادا کرنا باعث مشقت ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا اور ان کو تاکید کی کہ وہ اپنی بیویوں کو مہر ادا کریں (صدقتھن) یعنی ان کے مہر (نحلۃ) یعنی ان کا مہر خوش دلی اور اطمینان قلب کے ساتھ ادا کرو۔ مہر ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرو اور اسے ادا کرتے وقت اس میں کچھ کم نہ کرو۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت مکلف (یعنی بالغ اور عاقل) ہو تو مہر اس کو ادا کردیا جائے گا اور عقد کے موقع پر عورت مہر کی مالک بن جاتی ہے۔ کیونکہ حق مہر کی اضافت اس کی طرف جاتی ہے اور اضافت تملیک کا تقاضا کرتی ہے۔ (فان طبن لکم عن شی منہ) ” اگر وہ خود اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ چھوڑ دیں“ یعنی حق مہر سے (نفسا) یعنی اگر بیویاں برضاو رغبت مہر کا کچھ حصہ چھوڑ کر یا ادائیگی میں مہلت دے کر یا مہر کا کوئی عوض قبول کر کے شوہروں کے ساتھ نرمی کرتی ہیں (فکلوہ ھئیاً مریاً) ” تو کھاؤ تم اس کو ذوق شوق سے“ یعنی اس صورت میں تمہارے لئے کوئی حرج اور کوئی نقصان نہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت بالغ اور عاقل ہے تو اپنے مال میں تصرف کا پورا اختیار رکھتی ہے۔ خواہ وہ صدقہ ہی کیوں نہ کر دے۔ لیکن اگر بالغ اور عاقل نہیں ہے تو اس کے عطیہ کا حکم معتبر نہیں نیز عورت کا سرپرست اس مہر میں سے کچھ حصہ لینے کا حق دار نہیں سوائے اس کے، کہ عورت برضا و رغبت خود اسے کچھ عطا کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (فانکحوا ماطاب لکم من النسآء) میں اس بات کی دلیل ہے کہ خبیث یعنی ناپاک عورت سے نکاح مامور نہیں، بلکہ خبیث عورتوں سے نکاح کرنا منع ہے مثلاً مشرک اور فاسق وفا جر عورت سے۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولا تنکحوا المشرکت حتی یومن) (البقرۃ : 221/2) ” مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور فرمایا (والزانیۃ لاینکھا الا زان اومشرک) (النور :3/23)’ دبدکار عورت کے ساتھ ایک زانی اور مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا۔ “