سورة آل عمران - آیت 196

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

(اے نبی)! ملک میں کافروں کے ادھر ادھر چلنے [١٩٧] پھرنے سے آپ کو کسی قسم کا دھوکا نہ ہونا چاہیے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 196-198 اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو اس بارے میں تسلی دینا مقصود ہے کہ کفار کو جو دنیا کی نعمتیں، دنیا کی متاع، شہروں پر ان کا تصرف، مختلف قسم کی تجارتیں، مکاسب، انواع و اقسام کی لذات، اقتدار کی مختلف صورتیں اور بعض اوقات اہل ایمان پر ان کا غلبہ یہ تمام چیزیں (متاع قلیل) ” بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے“ بے ثبات ہیں باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ اس متاع قلیل سے بہت تھوڑا فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی وجہ سے بہت ہی طویل عذاب بھگتیں گے۔ یہ کافر کی بلند ترین حالت ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اس کا ٹھکانا کیا ہوگا اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں انہیں دنیا کی عزت اور دنیا کی نعمتوں کے حصول کے ساتھ ساتھ (لھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا) ” ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ “ اگر یہ مقدر کرلیا جائے کہ انہیں دنیا میں ہر قسم کی تکلیف، شدت، عناد اور مشقت کا سامنا کرناپڑا تو یہ جنت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، کدورتوں سے سلامت زندگی، بے پایاں مسرت، خوشی اور ترو تازگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ تو محنت کی صورت میں نوازش ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما عنداللہ خیر للابرار) ” اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ابرار کے لئے بہتر ہے“ اور (ابرار) وہ لوگ ہیں جن کے دل پاک اور اطاعت گزار ہوں اور ان کے اقوال و افعال بھی نیک ہوں۔ پس بھلائی کرنے والا اللہ مہربان اپنی عنایت سے انہیں اجر عظیم، بہت بڑی عطا و بخشش اور دائمی فوز و فلاح عطا کرے گا۔