سورة آل عمران - آیت 115

وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

جو بھی بھلائی کا کام وہ کریں گے اسی کی ناقدری [١٠٤] نہیں کی جائے گی اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 115 جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے فاسق گروہ کا ذکر کیا، ان کی بداعمالیاں اور ان کیسزائیں بیان کیں، تو ان آیات میں حق پر قائم رہنے والی جماعت کا ذکر فرمایا، ان کے نیک اعمال اور ان کا ثواب ذکر فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں گروہ برابر نہیں بلکہ ان کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس فاسق گروہ کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔ باقی رہے یہ مومن، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں (امۃ قآئمۃ) ایک جماعت اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں“ یہ رات کے اوقات میں ادا کی جانے والی ان کی نمازوں کا بیان ہے کہ وہ طویل تہجد پڑھتے ہیں اور اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ کے لئے خشوع و خضوع کے ساتھ رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ (یومنون باللہ والیوم الاخر) ” اللہ پر اور قایمت کے دن پر ایمان بھی رکھتے ہیں“ جس طرح مسلمانوں کا ایمان ان کے لئے ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر، اور اللہ کی نازل کی ہوئی ہر کتاب پر ایمان رکھیں۔ وہ بھی اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں۔ قیامت پر ایمان کا خاص طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ قیامت پر صحیح یقین و ایمان ہی مومن کو ان اعمال پر آمادہ کرتا ہے جو اسے اللہ سے قریب کرتے ہیں اور جن کا قیامت کو ثواب ملے گا اور ہر اس عمل کے ترک پر آمادہ کرتا ہے جس سے اس دن سزا ملے۔ (ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر) ” اور بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں“ اس طرح ان سے یہ عمل انجام پاتا ہے۔ ایمان اور ایمان کے لوازم کے ذریعے سے اپنی تکمیل کرتے ہیں اور دوسروں کو ہر نیکی کا حکم دے کر ہر برائی سے منع کر کے دوسروں کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو اور دوسروں لوگوں کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ان کی عالی ہمتی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ (ویسارعون فی الخیرت) ” بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں“ نیکی کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جب بھی ہوسکے فوراً نیکی کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی کی شدید رغبت اور خواہش رکھتے ہیں اور اس کے فوائد و ثمرات سے خوب واقف ہیں۔ یہ لوگ جن کی تعریف اللہ نے ان عمدہ صفات اور عظیم اعمال کے ساتھ کی ہے۔ (من الصلحین) ” یہی نیک لوگوں میں سے ہیں“ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، انہیں اپنی بخشش کے سائے میں لے لے گا اور انہیں اپنے فضل و احسان سے نوازے گا۔ (وما یفعلوا من خیر) ” اور یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں“ تھوڑی ہوں یا زیادہ (فلن یکفروہ) ” ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی“ انہیں ان کے ثواب سے محروم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان اعمال کا مکمل ترین ثواب دے گا۔ لیکن اعمال کے ثواب کا دار و مدار عمل کرنے والے کے دل میں موجود ایمان و تقویٰ پر ہوتا ہے۔ اس لئے فرمایا : (واللہ علیم بالمتقین) ” اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے“ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا : (انما یتقبل اللہ من المتقین) (المائدہ :28/5) ” اللہ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول کرتا ہے۔ “