سورة آل عمران - آیت 105

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نیز تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں [٩٦] بٹ گئے اور روشن دلائل آجانے کے بعد آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ یہی لوگ ہیں جنہیں بہت بڑا عذاب ہوگا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 105 مطلب یہ ہے کہ اے مومنو ! جن پر اللہ نے ایمان لانے اور اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی توفیق دے کر احسان فرمایا ہے، تم میں سے (امہ) ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے (یدعون الی الخیر) ” جو بھلائی کی طرف بلائے۔“ (خیر) ” بھلائی“ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ سے قریب کرنے والی اور اس کی ناراضی سے دور کرنے والی ہو۔ (ویامرون بالمعروف) ” اور وہ نیک کاموں کا حکم کرے“ (معروف) اسے کہتے ہیں جس کا اچھا ہونا عقل اور شریعت کی روشنی میں معلوم ہوچکا ہو۔ (وینھون عن المنکر) ” اور برے کاموں سے روکے“ (منکر) اسے کہتے ہیں جس کا برا ہونا عقل اور شریعت کے ذریعے سے معلوم ہوچکا ہو۔ اس میں مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ان میں ایک ایسی جماعت موجود ہونی چاہئے جو لوگ کو اس کی راہ کی طرف بلائے اور اس کے دین کی طرف رہنمائی کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہے۔ اس جماعت میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو لوگوں کو دین سکھاتے ہیں، وہ مبلغ بھی جو دوسرے مذاہب والوں کو دین اسلام میں داخل ہونے کی اور بدعملی میں مبتلا لوگوں کو دین پر کار بند ہونے کی تبلیغ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے بھی اور وہ لوگ بھی شامل ہیں، جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ لوگوں کے حالات معلوم کرتے رہیں اور انہیں شرعی احکام مثلاً نماز، روزہ، حج اور زکواۃ وغیرہ کی پابندی کروائیں اور غلط کاموں سے روکیں مثلاً ماپ تول کے پیمانوں اور باٹوں کو چیک کریں، بازار میں خرید و فروخت کرنے والوں کو دھوکا بازی سے اور لین دین کے ان معاملات سے روکیں جو شرعاً ناجائز ہیں۔ یہ سب کام فرض کفایہ ہیں۔ جیسے کہ آیت کریمہ کے الفاظ (ولتکن منکم امۃ) ” تم میں سے ایک جماعت ہنی چاہئے“ سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی تم میں ایک جماعت ایسی موجود ہونی چاہئے جس سے مذکورہ بالا مقاصد حاصل ہوسکیں۔ یہ ایک جانا پہچانا اور مانا ہوا اصول ہے کہ جب کسی خاص کام کا حکم دیا جائے، تو اس میں ان تمام کاموں کا حکم شامل ہوتا ہے، جو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ضروری ہوں۔ لہٰذا وہ تمام کام جن پر ان اشیاء کا وجود موقوف ہے، وہ سب ضروری ہیں اور اللہ کی طرف سے ان کا حکم سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً جہاد کے لئے طرح طرح کے سامان تیار کرنا، جن سے دشمنوں کا قلع قمع کیا جا سکے اور اسلام کا نام بلند کیا جا سکے، وہ علم سیکھنا جس کی مدد سے نیکی کی طرف بلایا جا سکے۔ علم وہ رہنمائی کے لئے مدارس کی تعمیر، لوگوں میں شریعت نافذ کرنے کے لئے حکمرانوں کی قولی، عملی اور مالی امداد اور ایسے دوسرے کام جن پر ان امور کا دار و مدار ہے۔ یہ جماعت جو نیکی کی طرف بلانے، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لئے کمربستہ ہے، یہ خاص مومنین ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (واولئک ھم المفلحون) ” اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں“ یعنی کامیاب ہیں جنہیں مطلوب حاصل ہوگا اور خطرناک نتائج سے محفوظ رہیں گے۔ اس کے بعد انہیں اہل کتاب کی طرح اختلاف و انتشار میں گرفتار ہونے سے منع کرتے ہوئے فرمایا : (ولا تکونوا کالذین تفرقوا و اختلفوا) ” اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا، جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا“ اور عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف بھی کیا تو (من بعد ماجآء ھم البینت) ” روشن دلیلیں آجانے کے بعد“ حالانکہ ان کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ افتراق و اختلاف نہ ہوتا۔ انہیں دین پر دوسروں کی نسبت زیادہ پابندی اختیار کرنا چاہئے تھی۔ لیکن انہوں نے بالکل الٹ کام کیا حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی مخلافت کر رہے ہیں۔ اس لئے وہ سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے : (واولئک لھم عذاب عظیم) ” اور انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔ “