سورة آل عمران - آیت 102

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں [٩٢] موت نہیں آنی چاہیے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 103 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس سے ایسے ڈریں جیسے ڈرنے کا حق ہے، پھر اس تقویٰ پر قائم اور ثابت قدم رہیں اور موت تک استقامت ہو۔ کیونکہ انسان جس طرح کی زندگی گزارتا ہے، اسے ویسی ہی موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص صحت، نشاط اور طاقت کی حالت میں اللہ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت پر قائم رہتا ہے اور ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت استقامت عطا فرماتا ہے اور اسے حسن خاتمہ سے نوازتا ہے۔ اللہ سے کما حقہ تقویٰ رکھنے کی وضاحت جناب عبداللہ بن مسعود نے ان الفاظ میں کی ہے : (ھو ان یطاع فلا یعصی ویذکر فلاینسی ویشکر فلایکفر) ” اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی فرماں برداری کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد کیا جائے، فراموش نہ کیا جائے، اس کا شکر کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے۔“ اس آیت میں وضاحت ہے تقویٰ کے سلسلے میں اللہ کا کیا حق ہے۔ اس بارے میں بندے کا جو فرض ہے۔ وہ اللہ کے اس فرمان میں بیان ہوا ہے : (فاتقوا اللہ ما استطعتم) (التغابن :16/63) ” جہاں تک تمہارا بس چلے، اللہ سے ڈرتے رہو“ دل اور جسم کے متعلق تقویٰ کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جس جس کام کا حکم دے اسے انجام دینا اور جس جس کام سے منع کرے، اس سے باز رہنا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کام کا حکم دیا ہے جو تقویٰ اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے، وہ ہے متحد رہنا، اللہ کے دین پر مضبوطی سے کاربند رہنا، تمام مومنوں کا یک آواز ہونا، مل جل کر رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔ دین پر متحد رہنے سے اور باہمی الفت و مودت سے ان کا دین بھی درست رہے گا اور دنیا بھی درست رہے گی۔ اتحاد کی وجہ سے وہ کام کرسکیں گے اور انہیں وہ تمام فوائد حاصل ہوں گے جن کا دار و مدار اتفاق و اتحاد پر ہے۔ یہ فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں نیکی اور تقویٰ میں تعاون بھی ممکن ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اختلاف اور تفرقہ کی وجہ سے ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، باہمی رابطے ٹوٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے ذاتی فائدے کے لئے بھاگ دوڑ کرے گا، اگرچہ اس سے اجتماعی طور پر نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نعمت ذکر فرمائی اور حکم دیا کہ اسے یاد رکھیں۔ چنانچہ فرمایا : (واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعدآء) ” اور اللہ کی اس وقت کی نعمت یاد کرو، جب تم (یہ نعمت حاصل ہونے سے پہلے) ایک دوسرے کے دشمن تھے“ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا مال چھینتے تھے، قبیلوں کی قبیلوں سے دشمنی تھی، ایک ہی شہر کے رہنے والے آپس میں عداوت اور جنگ وجدل کا شکار تھے۔ غرض بہت بری حالت تھی۔ یہ وہ حالت ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعث سے پہلے عرب میں عام تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا اور وہ لوگ ایمان لے آئے، تو وہ اسلام کی بنیاد پر اکٹھے ہوگئے، ان کے دلوں میں ایمان کی وجہ سے محبت پیدا ہوگئی۔ وہ باہمی محبت اور مدد کے لحاظ سے فرد واحد کی حیثیت اختیار کر گئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخواناً” اس نے تمہارے دلوں میں الف ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے۔“ اس کے بعد فرمایا : (وکنتم علی شفاحقرۃ من النار) ” اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے“ یعنی تم جہنم کے مستحق ہوچکے تھے۔ صرف اتنی کسر رہ گئی تھی کہ تمہیں موت آجائے تو جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ (فانقذکم منھا) ” تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا“ وہ اس طرح کہ تم پر یہ احسان کیا کہ تمہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان صنیب فرما دیا۔ (کذلک یبین اللہ لکم ایتہ) ” اللہ اسی طرح تمارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے“ یعنی ان کی وضاحت اور تشریح کرتا ہے اور تمہارے لئے حق و باطل اور ہدایت و گمراہی الگ الگ کر کے واضح کردیتا ہے (لعلکم تھتدون) ” تاکہ تم (حق کو پہچان کر اور اس پر عمل کر کے) ہدایت پاؤ“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندے دلوں اور زبانوں کے ساتھ اس کی نعمت کو یاد کریں، تاکہ ان میں شکر اور اللہ کی محبت کے جذبات پروان چڑھیں اور اللہ تعالیٰ مزید فضل و احسانات سے نوازے۔ اللہ کی جو نعمت سب سے زیادہ ذکر کئے جانے کے قابل ہے وہ ہے اسلام کا شرف حاصل ہوجانے کی نعمت، اتباع رسول کی توفیق مل جانے کی نعمت اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کی موجوگدی اور اختلاف و افتراق نہ ہونے کی نعمت۔