سورة آل عمران - آیت 45

إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جب فرشتوں نے مریم سے کہا : ''مریم! اللہ تجھے اپنے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ[٤٦] بن مریم ہوگا۔ وہ دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا اور اللہ کے مقرب بندوں میں شمار ہوگا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 45-58 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے آپ کو روح اللہ (اللہ کی روح) کہا گیا۔ (وجیھا فی الدنیا والاخرۃ) ” جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے“ یعنی انہیں دنیا میں ایک معزز مقام حاصل ہے کہ آپ کو اللہ نے ان اولو العزم رسولوں میں شامل کیا، جو بڑی شریعتوں کے حامل تھے، اور انہیں کثیر تعداد میں متبعین نصیب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ شہرت بخشی جو مشرق اور مغرب میں پھیل گئی۔ وہ آخرت میں بھی اللہ کے ہاں، عزت والے ہوں گے۔ دوسرے انبیاء اور رسولوں کی طرح آپ بھی شفاعت کریں گے، جس سے آپ کا بلند مقام ہان والوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا۔ اس لئے وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں، اپنے رب سے انتہائی قریب ہیں۔ بلکہ آپ مقربین کے سرداروں میں سے ہیں۔ (ویکلم الناس فی المدوکھلا) ” اور وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں رے گا، اور ادھیڑ عمر میں بھی“ یہ عام بات چیت سے ممتاز کلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ایسی باتیں کرے گا جس میں ان کی بھلائی اور کامیابی ہے اور ایسا کلام رسولوں کا ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ رسول ہوگا جو لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلائے گا۔ گہوارے میں لوگوں سے کلام کرنا اللہ کی ایک عظیم نشانی ہوگی جس سے مومنوں کو فائدہ ہوگا اور وہ دشمنوں کے خلاف حجت ہوگی۔ جس سے ثابت ہوگا کہ وہ رب العالمین کے رسول اور اللہ کے بندے ہیں۔ یہ کلام آپ کی والدہ کے لئے بھی نعمت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے سے ان پر لگنے والے الزام کی تردید ہوجائے گی۔ (ومن الصلحین) ” اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا“ یعنی اللہ اس پر یہ احسان بھی فرمائے گا کہ اسے نیکی عطا فرما کر نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔ اس میں مریم کے لئے کئی بشارتیں ہیں اور مسیح کے بلند مقام کا اظہار بھی ہے (قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر) ” کہنے لگیں : الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا“ اور اللہ کا عام قانون یہی ہے کہ مرد سے تعلق کئے بغیر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ بات مریم نے تعجب کے طور پر فرمائی۔ اللہ کی قدرت پر شک کرتے ہوئے نہیں فرمائی۔ (قال کذلک اللہ یخلق ما یشآء اذا قضی امراً فانما یقول لہ کن فیکون) ” فرشتے نے کہا : اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔“ اس نے مریم کو بتایا کہ یہ خرق عادت معاملہ ہے۔ اسے پیدا کرنے والا وہ اللہ ہے جو کسی بھی کام کو کہتا ہے ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔ جو اس چیز پر یقین کرلے اس کا تعجب ختم ہوجائے گا۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے عجیب کے بعد زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے حضرت یحییٰ کی ولادت کا ذکر فرمایا جن کے والد انتہائی بوڑھے اور والدہ بانجھ تھیں۔ پھر زیادہ عجیب واقعہ بیان فرمایا یعنی عیسیٰ کا کسی والد کے بغیر صرف والدہ سے پیدا ہونا۔ تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے۔ جو کچھ وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد اللہ نے پانے بندے اور اپنے رسول عیسیٰ پر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا (ویعلمہ الکتب) ” اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا“ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طور پر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف و افضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لئے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طور پر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انہیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے : (اقرا باسم ربک الذین خلق، خلق الانسان من علق، اقرا وربک الاکرم، الذی علم بالقلم) (العلق :3-1/96) ” پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا، اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ پر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انہیں لکھنا سکھایا، اور علم و حکمت سے نوازا۔ یہ انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والا کمال ہے۔ پھر ایک اور کمال ذکر فرمایا جو آپ کو حاصل ہونے والے دوسرے فضائل سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ فرمایا : (و رسولاً الی بنی اسرائیل) ” اور وہ بنی اسرئایل کی طرف رسول ہوگا“ اللہ نے آپ کو اس عظیم قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو اپنے زمانے کی افضل ترین قوم تھی۔ آپ نے انہیں اللہ کی طرف بلایا اور اللہ نے آپ کو وہ معجزات عطا فرمائے جن سے ثابت ہوجائے کہ وہ واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کے سچے نبی ہیں۔ اس لئے فرمایا : (انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الظین کھیءۃ الطیر) ” کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں۔ میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔“ (فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ) ” پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔“ یعنی اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے اور وہ اڑنے لگتا ہے۔ (وابری الاکمہ والابرص) ” اور میں (اللہ کے حکم سے) مادر زاد اندھے اور ابرص کو اچھا کردیتا ہوں“ (واحی الموتی باذن اللہ وانبئکم بماتاکلون وما تدخرون فی بیوتکم) ” اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کردیتا ہوں اور جو کچھ تم کھاؤ، اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمہیں بتا دیتا ہوں“ (ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین) ” اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان دار ہو“ اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ بے جان مٹی زندہ جانور بن جائے، ایسے بیمار تندرست ہوجائیں جن کا علاج کرنے سے تمام معالج عاجز تھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اور غیبی امور کی خبریں دی جائیں۔ ان میں سے اگر کوئی نشانی اکیلی بھی ظاہر ہوتی تو بہت بڑا معجزہ ہوتی۔ تو پھر جب یہ سب نشانیاں ظاہر ہوں اور ایک دوسری کی تائید کریں تو یقیناً یقین حاصل ہوگا، اور ایمان لانا ضروری ہوگا (ومصدقا لمابین یدی من التورۃ) ” اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے“ یعنی وہ ویسی ہی تعلیمات لے کر آیا ہوں جیسی موسیٰ لائے تھے اور جو تورات میں موجود تھیں۔ سچے آدمی کی علاتم یہ ہے کہ اس کی بتائی ہوئی باتیں دوسرے سچے افراد کے بیانات کے مطابق ہوں۔ وہ سچی خبریں دے اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرے۔ اس کی باتوں میں تناقض اور اختلاف نہ ہو۔ جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ بالخصوص جو سب سے بڑا دعویٰ یعنی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر اسکا دعویٰ جھوٹ ہے تو اس کا جھوٹ ہر کسی کے سامنے ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ اس کی باتوں میں تناقض ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سچے لوگوں کی باتوں کے خلاف اور جھوٹے لوگوں کی باتوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ گزشتہ اقوام میں یہی طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ کیونکہ نبوت کے دعویٰ میں سچے اور جھوٹے میں ہرگز اشتباہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض چھوٹے موٹے جزوی معاملات میں سچا اور جھوٹا ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ نبوت پر تو مخلوق کی ہدایت و ضلالت اور نجات و ہلاکت کا دار و مدار ہے۔ اس کا سچا دعویٰ کرنے والا کامل ترین انسان ہی ہوسکتا ہے اور اس کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا سب سے حقیر، سب سے بڑھ کر جھوٹا اور سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ ان دونوں میں ایسے واضح فرق موجود ہوں جنہیں عقل رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکے۔ اس کے بعد عیسیٰ نے بتایا کہ انجیل کی شریعت میں آسانی اور نرمی ہے۔ چنانچہ فرمایا : (ولا حل لکم بعض الذی حرم علیکم) ” اور میں اس لئے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے تو رات کے اکثر احکام منسوخ نہیں کئے، بلکہ ان کی تکمیل کی ہے اور انہیں برقرار رکھا ہے۔ (وجئتکم بایۃ من ربکم) ” اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں سچا ہوں اور میری پیروی واجب ہے۔ اس سے مراد وہی معجزات ہیں، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ (فاتقوا اللہ) ” تم اللہ سے ڈرو“ اس کے احکام کی تعمیل کرو، اور اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے پرہیز کرو، اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ رسول کی اطاعت اصل میں اللہ کی اطاعت ہوتی ہے۔ (ان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ) ” یقین مانو، میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو۔“ توحید ربوبیت (یعنی اللہ کے خلاق ہونے) کا اقرار سب کو ہے۔ جناب عیسیٰ نے اس کو توحید الوہیت (یعنی صرف اللہ کے معبود برحق ہونے) کی دلیل بنایا۔ جسے مشرکین نہیں مانتے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارا خالق، رازق اور ہمیں تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں دینے والا صرف اللہ ہے، اسی طرح ہمیں یہ بھی ماننا چاہئے کہ ہمارا معبود صرف اللہ ہے جس سے ہم محبت رکھیں، اس سے ڈریں، اس سے امیدیں رکھیں، اس سے دعائیں کریں، اس سے مدد مانگیں اور عبادت کی دوسری تمام صورتیں بھی اس کے لئے مخصوص کردیں۔ اس سے نصاریٰ کی تردید ہوتی ہے۔ جو عیسیٰ کو معبود مانتے ہیں۔ یا اللہ تعالیٰ کاب یٹا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے خود اقرار کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق، اللہ کے بندے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہیں۔ جیسے انہوں نے فرمایا تھا : (انی عبداللہ اتنی الکتب وجعلنی نبیاً) (مریم :30/19) ” میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہے۔“ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا (واذا قال اللہ یعیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ قال سبحنک مایکون لی ان اقول مالیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم مافی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علامہ الغیوب، ماقلت لھم الا مآ امرتنی بہ ان اعبدواللہ ربی و ربکم) (المائدہ :118-116/5) ” اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تو نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے، اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا، مگر صرف وہی جو تو نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔“ (ھذا صراط مستقیم) ” یہی سیدھی راہ ہے“ یعنی اللہ کی عبادت، اس کا تقویٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی سیدھی راہ ہے جو اللہ تک اور اس کی جنت تک پہنچاتی ہے۔ اس کے سوا ہر راستہ جہنم کی طرف پہنچانے والا ہے۔ (فلما احس عیسیٰ منھم الفکر) ” جب عیسیٰ نے ان کا کفر محسوس کرلیا“ دیکھا کہ وہ آپ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ نہیں بلکہ انہیں جادوگر کہتے ہیں۔ آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کی کوشش کر رہے ہیں (قال من انصاری الی اللہ) ” تو کہنے لگے : اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟“ یعنی اللہ کے دین کی نفرت کے لئے میرے ساتھ کون تعاون کرے گا؟ (قال الحواریون نحن انصار اللہ) ” حواریوں (یعنی آپ کے مددگاورں) نے کہا ہم اللہ کی راہ کے مددگار ہیں“ یعنی انہوں نے آپ کا ساتھ دیا اور یہ فریضہ نبھایا۔ انہوں نے کہا : (امنا باللہ) ” ہم اللہ پر ایمان لائے“ (فاکتبنا مع الشھدین) ” پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے“ یعنی ایسی گواہی جو مفید ہو، اس گواہی سے مراد اللہ کی توحید کا اقرار اور نبیوں کی تصدیق اور اس کے مطابق عمل۔ جب وہ دین کی نصرت کے لئے اور شریعت کو قائم کرنے کے لئے عیسیٰ کے ساتھ ہوگئے تو بنی اسرئایل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا۔ ان دونوں میں جنگ ہوئی تو اللہ نے مومنوں کی مدد کی اور مشرکوں کو شکست ہوئی اور الہ توحید کامیاب ہوگئے۔ اس لئے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (ومکروا) ” اور انہوں (کافروں) نے تدبیر کی“ یعنی اللہ کے نور کو بجھانے کے لئے اللہ کے نبی کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا (ومکراللہ) ” اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی“ اور انہیں ان کے منصوبوں کی سزا دینے کا فیصلہ فرمایا۔ (واللہ خیر المکرین) ” اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے“ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنا دیا اور ورہ خائب و خاسر ہو کر رہ گئے۔ (اذ قال اللہ یعسی انی متوفیک وافع الی ومطھرک من الذین کفروا) ” جب اللہ نے فرمایا : اے عیسیٰ ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰ کو اپنی طرف آسمانوں پر اٹھا لیا اور کسی اور شخص پر آپ کی مشابہت ڈال دی۔ جس آدمی کو آپ کا ہم شکل بنایا گیا تھا، دشمنوں نے اسے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔ اس طرح وہ ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کی نیت حضرت عیسیٰ کو شہید کرنے کی تھی اور اپنے خیال میں وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم) (النساء :108/3) ” نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کے لئے وہی صورت بنا دی گئی تھی“ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق سے اوپر ہونا، اور عرش پر حقیقتاً مستوی ہونا ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت ہوتا ہے جنہیں الہ سنت نے تسلیم کیا ہی اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب قوی اور زبردست ہے۔ جس کا ایک مظہر بنی اسرائیل کا عیسیٰ کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلینے اور پروگرام بنا لینے اور اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہ ہنے کے باوجود، اس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکم رہنا ہے جیسے اللہ کا ارشاد ہے : (واذ کففت بنی اسر آپ یل عنک اذجئتھم بالبینت فقال الذین کفروا منھم ان ھذا الاسخرمبین) (المائدہ :110/5) ” اور جب میں نے بنی اسرئایل کو تم سے باز رکھا، جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انہوں نے ہا تھا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔“ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ بنی اسرئایل کو شبہ میں رکھنے میں بھی اس کی عظیم حکمت پوشیدہ تھی۔ چنانچہ وہ شبہ میں پڑگئے جیسے ارشاد ہے (وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالھم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقینا) (النساء :108/3) ” یقین جانو، عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔ اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا۔“ اس کے بعد فرمایا : (وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروآ الی یوم القیمۃ) ” اور تیرے تابع داروں کو کفاروں کے اوپر رکھنے والا ہوں، قیامت کے دن تک“ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کافروں کے خلاف ان کے مومنوں کی مدد فرمائی۔ پھر عیسیٰ سے نسبت رکھنے والے نصاریٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہے، کیونکہ یہود کی نسبت عیسائی عیسیٰ کی اتباع سے قریب تر تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا تو مسلمان عیسیٰ کے حقیقی متبع بنے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ البتہ کسی کسی زمانے میں عیسائی وغیرہ کافر مسلمانوں پر غالب آتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پوشیدہ ہے اور یہ مسلمانوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع سے پہلو تہی کرنے کی سزا ہے۔ (ثم الی مرجعکم) ” پھر تم سب کا (یعنی تمام مخلوقات) کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔“ (فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون) ” پس میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔“ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے سب غلطی پر ہیں۔ یہ سب دعوے ہیں جنہیں دلیل کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اللہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ (فاما الذین کفروا) ” پھر جنہوں نے انکار کیا“ اللہ کے ساتھ کفر کیا، اس کی آیات کا اور رسولوں کا انکار کیا (فاعذبھم عذاباً شدیداً فی الدنیا و الاخرۃ) ” پس میں انہیں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا“ دنیا کے عذاب سے مراد ظاہر نظر آنے والی مصیبتیں، سزائیں، قتل، ذلت وغیرہ ہیں اور آخرت کا عذاب سب سے بڑی آفت اور مصیبت ہے۔ یعنی جہنم کا عذاب، اللہ کی ناراضی، اور نیکی کے ثواب سے محرومی۔ (وما لھم من نصرین) ” اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا“ جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ وہ بھی جنہیں وہ اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کرنے والے سمجھتے ہیں، وہ بھی نہیں، جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر دوست بناتے ہیں، نہ ان کے رفیق نہ رشتے دار، نہ وہ خود اپنی کچھ مدد کرسکیں گے۔ (واما الذین امنوا) ” لیکن جو لوگ ایمان لائے، اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، موت کے بعد کی زندگی پر، اور ان سب امور پر ایمان لائے، جن پر ایمان لانے کا انہیں حکم دیا گیا ہے۔ (وعملوا الصلحت) ” اور نیک اعمال کئے“ دل، زبان اور بدن سے ادا ہونے والے وہ اعمال جنہیں رسولوں نے مشروع اور مطلوب قرار دیا اور ان اعمال سے ان کا مقصد رب العالمین کو خش کرنا تھا۔ (فیوفیھم اجورھم) ” پس انہیں وہ (اللہ تعالیٰ) ان کا پورا ثبوت دے گا۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دنیا میں بھی نیکیوں کا ثواب ملے گا، یعنی عزت، احترام، مدد، پاکیزہ زندگی، البتہ مکمل ثواب قیامت کو ملے گا کہ اللہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا ثواب بھی دے گا اور اپنے فضل و کرم سے مزید انعامات بھی دے گا۔ (واللہ لایحث الظلمین) ” اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا“ بلکہ ان سے ناراض ہے اور انہیں عذاب دیتا ہے (ذلک نتلوہ علیک من الایت والذکر الحکیم) ” یہ جے ہم تیرے سامنے پڑھ رہے ہیں، آیتیں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہے۔“ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ ان پر یہ حکمت والا قرآن نازل کیا جو محکم اور پختہ ہے۔ تمام احکام، حلال و حرام، گزشتہ انبیائے کرام کے واقعات اور ان کے ہاتھوں ظاہر ہونے والے واضح معجزات بیان کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن وہ تمام احکام و قصص بیان کرتا ہے جو ہمارے لئے مفید ہیں۔ ہمیں اس سے علم، عبرت، ثابت قدمی اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے جو رب کی عظیم ترین نعمت ہے۔ اس کے بعد فرمایا :