سورة آل عمران - آیت 33

إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اللہ تعالیٰ نے آدم کو، نوح کو، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام اہل عالم میں [٣٥] سے (رسالت کے لیے) منتخب کیا تھا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 33-37 اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء، اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدم کا انتخاب فرمایا۔ انہیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کر کے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں، انہیں جنت میں ٹھہرایا۔ انہیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے۔ اس لئے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (ولقد کرمنا بنی ادم وحملنھم فی البروالبحر ورزقنھم من الطیبت وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفصیلاً“ (بنی اسرائیل :80/18) ” یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں، اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔ “ اللہ نے نوح کو منتخب فرمایا اور انہیں اسوقت رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا، جب بتوں کی پوجا شروع ہوگئی۔ آپ کو ہر وقت صبر، برداشت، شکر اور تبلیغ کی وہ توفیق بخشی جس کی وجہ سے وہ منتخب قرار دیے جانے کے لائق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کی دعا کے نتیجے میں زمین کے تمام باشندوں کو غرق کردیا۔ آپ کو، آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے سے نجات بخشی، آپ کی نسل کو قیامت تک باقی رکھا۔ ہر زمانے میں لوگ آپ کی تعریف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ جن میں خود ابراہیم بھی شامل ہیں جن کو اللہ نے خاص طور پر اپنی خلت سے نواز کر خلیل الرحمٰن کے لقب سے مشرف فرمایا۔ جنہوں نے اپنی ذات کو آپ کے حوالے کردیا، بیٹے کو قربانی کے لئے پیش کردیا اور مال مہمانوں کی خدمت کے لئے وقف کردیا۔ آپ نے رات دن، چھپ چھپ کر اور علانیہ لوگوں کو رب کی طرف بلایا۔ اللہ نے آپ کو اسوہ (نمونہ) قرار دیا کہ بعد کے سب لوگ ان کی اتباع کریں۔ نبوت اور آسمانی کتابیں آپ کی اولاد کے لئے خاص کردیں۔ آل ابراہیم میں وہ تمام انبیاء شامل ہیں جو آپ کے بعد مبعوث ہوئے، کیونکہ وہ سب آپ کی نسل سے تھے۔ اللہ نے ان حضرات کو ایسے ایسے فضائل سے نوازا کہ وہ جہانوں میں افضل ترین افراد بن گئے۔ ابراہیم ہی کی آل میں سے تمام اولاد آدم کے سردار، ہمارے نبی جناب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تشریف لائے۔ جن میں اللہ نے وہ تمام خوبیاں جمع فرما دیں جو دوسرے انبیاء کرام میں انفرادی طور پر موجود تھیں۔ چنانچہ آپ گزشتہ اور آئندہ تمام انسانوں سے بلند تر ہوئے۔ آپ رسولوں کے سردار ہوئے، جنہیں آل ابراہیم میں سے منتخب فرد (مصطفی) ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمران کی آل کو بھی منتخب قرار دیا۔ عمران حضرت مریم کے والد ماجد کا نام ہے۔ حضرت موسیٰ کے والد کا نام بھی عمران تھا۔ یہ گھرانے، جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یہ جہان والوں سے اس کے منتخب افراد کے گھرانے تھے۔ ان کی اولادوں کے ذریعے سے اصلاح اور توفیق کا تسلسل قائم رہا۔ اس لئے اللہ نے فرمایا : (ذریۃ بعضھما من بعض) ” یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں“ ان میں باہمی مناسبت اور مشابہت تخلیق کے لحاظ سے بھی ہے اور الخقا حسنہ کے لحاظ سے بھی۔ جس طرح اللہ نے ان خاندانوں کے دوسرے انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : (ومن ابآ ءھم وذریتھم واخوانھم واجتبینھم وھدینھم الی صراط مستقیم) (الانعام :88/6) ” اور ان کے کچھ آباؤ و اجداد کو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راست کی ہدایت کی“ (واللہ سمیع علیم) ” اور اللہ سنتا جانتا ہے“ یعنی کون اس قابل ہے کہ اسے چنا جائے اور کون نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں اس لئے منتخب فرمایا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان میں ایسی خوبیاں موجود ہیں جو انہیں انتخبا کے قابل بناتی ہیں۔ یہ بھی اللہ کا فضل و کرم تھا۔ ان بلند مرتبت حضرات کے واقعات ہمیں سننے کا فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ ہم ان سے محبت رکھیں، ان کی اقتدار کریں، اللہ سے سوال کریں کہ جس طرح ان کو توفیق دی تھی۔ ہمیں بھی ویسے نیک اعمال کی توفیق بخشے۔ ان کے پیچھے رہ جانے اور ویسی صفات سے متصف نہ ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو حقیر سمجھتے رہیں (یعنی اپنے اعمال پر فخر نہ کریں) علاوہ ازیں اس بیان میں ان پر مہربانی ہے، اولین و آخرین میں ان کی تعریف کا اظہار ہے اور ان کے شرف و عظمت کا اعلان ہے۔ اللہ کا جو دو کرم کتنا عظیم ہے، اگر کوئی اور شرف نہ بھی ہوتا تو ان کے لئے یہی شرف کافی تھا کہ ان کا ذکر اور ان کی خوبیوں کا بیان دوام پا گیا ہے۔ ان معزز گھرانوں کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی والدہ حضرت مریم کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کی تربیت اور نشو و نما میں کس طرح اللہ کا خاص لطف و کرم شامل تھا۔ چنانچہ ارشاد ہے : (اذ قالت امرات عمرن) ” جب عمران کی بیوی نے کہا“ یعنی مریم کی والدہ نے حمل قرار پا جانے پر فرمایا : (رب انی نذرت لک ما فی بطنی محررا) ” اے میرے رب ! میرے پیٹے میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانی“ یعنی تیری رضا کے حصول کے لئے میں نے تیرے گھر کی خدمت کے لئے آزاد کردیا۔ (فتقبل منی) ” پس تو میری طرف سے (یہ مبارک عمل) قبول فرما“ (انک انت السمیع العلیم) ” یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے“ تو میری دعا سن رہا ہے اور میری نیت اور ارادے سے باخبر ہے، یہ دعا انہوں نے اس وقت کی تھی جب مریم ان کے پیٹ میں تھیں، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ (فلما وضعتھا قالت رب انی وضعتھا انثی) ” جب بچی کو جنا تو کہنے لگی : پروردگار ! مجھے تو لڑکی ہوئی“ جب کہ انہیں شوق تھا کہ لڑکا پیدا ہو، جو اللہ کے گھر میں خدمت اچھے طریقے سے کرسکے۔ اس کلام سے گویا ایک قسم کی معذرت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واللہ اعلم بما وضعت) ” اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی“ اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسے تو اس وقت بھی علم تھا جب ان کی والدہ کو بھی علم نہیں تھا۔ (ولیس الذکر کالانثی وانی سمتھا مریم) ” اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں اور میں نے اس کا نام مریم رکھا“ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی سے افضل ہے اور پیدائش کے وقت نام رکھنا جائز ہے اور ماں اپنے بچے کا نام رکھ سکتی ہے بشرطیکہ باپ کو یہ بات ناپسند نہ ہو۔ (وانی اعیذھا بک وذریتھا من الشیطن الرجیم) ” او میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں“ انہوں نے مریم اور مریم کی اوالد کے لئے دعا کی کہ انہیں اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ رکھے۔ (فتقبلھا ربھا بقبول حسن) ” پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا“ یعنی انہیں نذر کے طور پر قبول فرمایا اور انہیں اور ان کی اولاد کو شیطان سے محفوظ فرمایا۔ (وانبتھا نباتاً حسنا) یعنی ان کی جسمانی اور الخاقی تربیت بہت اچھی ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے زکریا کو متعین فرمایا۔ (وکفلھا زکریا) ” اور ان کی خیر خبر لینے والا زکریا کو بنایا“ یہ اللہ کی مہربانی تھی کہ ان کی تربیت کامل ترین حال میں ہو۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کرتے کرتے ان کی عمر بڑھی، اور دوسری عورتوں سے فائق ہوگئیں۔ وہ اپنے رب کی عبادت کے لئے وقف ہوگئیں اور اپنی محراب یعنی نماز کی جگہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگیں۔ (کلما دخل علیھا زکریا المحراب وجدعندھا رزقا) ” جب کبھی زکریا ان کے حجرے میں جاتے، تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئے پاتے“ جس میں ان کی محنت و مشقت شامل نہیں تھی۔ بلکہ یہ رزق انہیں اللہ نے کرامت کے طور پر عطا فرمایا۔ زکریا نے فرمایا (انی لک ھذا ) ” یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی“ (قالت ھومن عند اللہ) ” وہ جواب دیتیں، یہ اللہ کے پاس سے ہے“ یہ اس کا فضل و احسان ہے۔ (ان اللہ یرزق من یشآء بغیر حساب) ” بے شک اللہ جسے چاہے بے شماری روزی دے“ یعنی جہاں سے بندے کو گمان بھی نہ ہو اور بغیر محنت کھانے کا بندوبست فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ومن یتق اللہ یجعل لہ، مخرجاً، ویرزقہ من حیث لایحتسب) (الطلاق :3,2,65) ” اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لئے آیت سے اولیائے کرام کی خرق عادت کرامات کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ثابت ہیں۔ اس لئے جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف درست نہیں۔ جب زکریا نے مریم پر اللہ کا یہ احسان ملاحظہ فرمایا اور انہیں بغیر کوشش اور محنت کے، بہترین رزق ملنے کی کرامت دیکھی تو آپ کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :