سورة آل عمران - آیت 14

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

لوگوں کے لیے خواہشات نفس سے محبت، جیسے عورتوں سے، بیٹوں سے، سونے اور چاندی کے جمع کردہ خزانوں سے، نشان زدہ (عمدہ قسم کے) گھوڑوں مویشیوں اور کھیتی سے محبت دلفریب بنا دی گئی ہے۔ یہ سب کچھ دنیوی [١٥] زندگی کا سامان ہے اور جو بہتر ٹھکانا ہے وہ اللہ ہی کے پاس ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 14-17 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے دنیوی مرغوب چیزوں کی محبت مزین کردی ہے۔ ان میں سے مذکورہ بالا اشیاء کو خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مرغوب چیزوں میں سے یہ سب سے بڑھ کر ہیں۔ باقی سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے ارشاد ہے : (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا) (الکھف :8/18” ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اسے زمین کی زینت بنایا ہے“ چونکہ یہ چیزیں مزین کردی گئیں ہیں اور ان میں دلوں کو مائل کرنے کا وصف ہے۔ اس لئے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوگئے اور عملی طور پر لوگوں کی دو قسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہی مادی اشیاء کو اپنا مقصود بنا لیا، ان کی سوچیں، ان کے خیالات، ان کے ظاہری اور باطنی اعمال اسی کے لئے خاص ہو کر رہ گئے۔ اسی دنیوی مال و متاع میں مشغول ہو کر وہ اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول گئے۔ دنیا سے ان کا وہ تعلق رہا جو چرنے والے مویشیوں کا ہوتا ہے۔ وہ اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ پروا نہیں کرتے کہ انہوں نے یہ کیسے حاصل کی اور کہاں خرچ کی۔ دنیا ان کے لئے مشقت و عذاب کے مقام (جہنم) کی طرف لے جانے والے سفر کا سامان بن جاتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اس کا اصل مقصود سمجھ لیا کہ اسے تو اللہ نے بندوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ کون اپنی خواہش نفس اور دنیوی لذت پر اللہ نے بندوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ کون اپنی خواہش نفس اور دنیوی لذت پر اللہ کی اطاعت اور رضا کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے دنیا کو آخرت کے حصول کا ذریعہ بنا لیا۔ وہ اس سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، لیکن اس طرح کہ وہ اللہ کی رضا کے حصول میں مددگار ثابت ہو۔ ان کے بدن تو اس کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن دل اس سے دور ہوتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ اس کی حقیقت وہی ہے جو اللہ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی : (ذلک متاع الحیوۃ الدینا) ” یہ تو دنیا کی زندگی کا مال و متاع ہے“ انہوں نے اسے آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا۔ اسے ایک بازار جانا جس میں انہیں اخروی نفع عظیم کی امید ہے۔ ان کے لئے دنیا آخرت کے سفر کے لئے زاد راہ بن گئی۔ علاوہ ازیں اس آیت میں ان ناداروں کو تسلی دی گئی ہے، جو اپنی ایسی خواہشات پوری نہیں کرسکتے جو دولت مند پوری کرسکتے ہیں اور اس کے دھوکے میں گرفتار ہوجانے والوں کو تنبیہ ہے اور روشن عقل والوں کو اس کی محبت سے روکا گیا ہے۔ یہ موضوع اس طرح مکمل ہوا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دارلقرار (ہمیشہ رہنے والا گھر) اور نیک متقیوں کا انجام بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ یہ اخروی نعمتیں ان مذکورہ (دنیوی) اشیاء سے بہتر ہیں۔ یعنی بلند و بالا درختوں کے باغات، جن میں نفیس محلات، اور اونچے اونچے بالا خانے ہیں، طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے پھل دار درخت ہیں، ان کی مرضی کے مطابق چلنے والی نہریں ہیں، ہر ظاہری و باطنی عیب و نجاست سے پاک بیویاں ہیں، اور ان تمام نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی، یہ نعمتوں کی انتہا ہے اور پھر اللہ کی خشونودی جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ذرا اس شان دار جہان کا اس حقیر جہان سے مقابلہ و موازنہ تو کیجیے۔ پھر اپنے لئے بہتر متبادل کا انتخاب کرلیجیے۔ اپنے دل کو ان دونوں کا فرق سمجھا ئیے۔ (واللہ بصیر بالعباد) ” سب بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں۔“ وہ ان کے تمام اچھے اور برے اوصاف سے باخبر ہے۔ اسے معلوم ہے کہ ان کے حالات کے مطابق کون سا نتیجہ ان کے لائق ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے توفیق دے دیتا ہے۔ وہ جنت جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، اور اس کی کامل صفات بیان فرمائی ہیں وہ بھی انہیں ملے گی جو اس کے مستحق ہیں۔ یعنی جنہوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے حکموں کی تعمیل کی، اور ممنوع کاموں سے پرہیز کیا اور اپنی دعاؤں میں کہا : (ربنا اتنا امنا فاغفرلنا ذنوبنا وقنا عذاب النار) ” اے ہمارے رب ! ہم ایمان لا چکے۔ اس لئے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ انہوں نے اللہ کے اس احسان کا ذکر کیا کہ اس نے انہیں ایمان کی توفیق دی ہے اور اس کے وسیلے سے یہ دعا کی کہ وہ ان کے گناہ معاف کر دے اور گناہوں کے برے اثرات و نتائج یعنی جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما دے۔ اس کے بعد تقویٰ کے اوصاف تفصیل سے بیان کئے اور فرمایا : (الصبرین) ” صبر کرنے والے“ جو اپنے آپ کو اللہ کے پیارے کاموں اور اس کی اطاعت کے اعمال پر قائم رکھتے ہیں، اس کی نافرمانی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے، صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور اللہ کی تقدیر کے مطابق پیش آنے والے مصائب و مشکلات پر بھی صبر کرتے ہیں۔ (والصدقین) ” اور سچ بولنے والے“ جو اپنے ایمان میں، اقوال میں اور احوال میں راست باز اور سچے ہیں۔ (والمنفقین) ” اور خرچ کرنے والے“ جو کچھ اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے مختلف انداز سے ضرورت مند افراد کو دیتے ہیں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اجنبی (والمستغفرین بالاسحار) ” اور پچھلی رات بخشش مانگنے والے“ اللہ تعالیٰ ٰ نے ان کی اچھی صفات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو معمولی سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اعلیٰ مقام پر فائز نہیں سمجھتے۔ بلکہ خود کو گناہ گار اور کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں۔ اس لئے رب سے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ایسا وقت منتخب کرتے ہیں جب قبولیت کی امید زیادہ ہو اور وہ صبح صادق کا وقت ہے۔ حسن (بصری) فرماتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز اتنی لمبی کرتے ہیں کہ سحر ہوجاتی ہے۔ پھر بیٹھ کر رب سے استغفار اور دعائے مغفرت کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں یہ مسائل بیان ہوئے ہیں۔ دنیا میں لوگوں کی حالت، دنیا ختم ہونے والا مال و متاع ہے۔ جنت کا بیان، اس کی نعمتیں، آخرت کا دنیا سے افضل ہونا، جس میں یہ ارشاد ہے کہ آخرت کو ترجیح دینا، اور آخرت کے لئے کام کرنا چاہئے۔ الہ جنت یعنی متقیوں کی صفات، تقویٰ پر مشتمل اعمال کا تفصیلی بیان۔ ان کی روشنی میں ہر شخص اپنا فیصلہ خود کرسکتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی؟