سورة المؤمنون - آیت 101

فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ ہی اس دن کوئی ایک دوسرے [٩٨] کا حال پوچھے گا۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت نمبر (101 اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دو چار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یود المجرم لو یفتدی من عذاب یومذ ببنیہ۔ وصاحبتہ واخیہ۔ و فصیلتہ التی تویہ۔ ومن فی الارض جیعا ثم ینجیہ) (المعارج : (14-11/80” اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں‘ بیوی‘ بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔“ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ (فاذا جاءت الصالخۃ۔ یوم یفر المرء من اخیہ۔ و امہ وابیہ۔ و صاحبتہ و بنیہ۔ لکل امریء منھم یو مئذ شان یغنیہ) (عبس : (37-33/80” جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا‘ اپنی ماں اور باپ سے‘ بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔“ قیامت کے روز بعض مقامت ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام‘ جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بد اعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہوجائے گا۔ (فمن ثقلت موازینہ) پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا (فاولئک ھم المفلحون ) ” تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔“ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے۔ (ومن خفت موازینہ) اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جاہیں گی۔ (فاولئک الذین خسرو انفسھم) ” پس یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔“ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں۔ نہیں یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کردیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کرسکتا تھا۔ پس تھا پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ (فی جھنم خالدون) ” وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔“ وہ ابدالآ باد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید‘ جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کرچکے ہیں‘ اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہوسکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی۔ البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کر کے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوا ہوگا۔۔۔۔۔ تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (تلفح وجوھھم النار ) ” جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔“ یعنی آگ انہیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتٰی کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ (و ھم فیھا کلحون) ” اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔“ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا : ( الم تکن ایتی تتلی علیکم ) ” کیا میری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟“ ان آیات کے ذریعے سے تمہیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تماہرے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو (فکنتم بھا تکذبون) پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں۔ یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ( قالو ربنا غلبت غلینا شقوتنا) کہیں گے ہم پر ہماری بد بختی غالب آگئی جس نے ظلم‘ حق سے روگردانی‘ ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ (وکنا قوما ضالین ” اور ہم گمراہ لوگ تھے۔“ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے۔ اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں‘ یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام کئے جس طرح گمراہ‘ بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ (وقالو لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحب السعیر) (الملک (10/67” اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔ “ (ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فا نا ظالمون ) ” اے ہمارے رب ! ہمیں اس سے نکال لے‘ پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینًا ظالم ہوں گے۔“ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ) (الانعام : (28/6” اور اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کردیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑ لیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا : (اخسؤ ا فیھا ولا تکلمون) ” پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام۔۔۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔۔۔۔ علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی‘ زجرو توبیخ‘ ذلت‘ حسارے ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی بشارت کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا‘ چنانچہ فرمایا : (انہ کان فریق من عبادی یقولون ربنا امنا فاغفرلنا وارحمنا وانت خیر الرحمین ) ” میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے‘ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما‘ اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔“ پس انہوں نے ایمان کو‘ جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے‘ اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو اس کی ربوبیت کے توسل کو ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو‘ اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کردیا۔ یہ آیت کریمہ ضمنًا اہل ایمان کے خشوع و خضوع‘ اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی‘ ان کے خوف الہٰی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔ پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں (فاتخذ تموھم) ” لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔“ اے حقیر اور ناقص العقل کافرو !(سخریا) ” مذاق (کاموضوع) “ یعنی تم ان کے ساتھ استہزاء کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انہیں بیوقوف سمجھتے تھے (حتی انسو کم ذکری وکنتم منھم تضحکون) ” یہاں تک کہ ( اس شغل نے) تمہیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔“ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی‘ جیسے ذکر کو فراموش کردینا ان کو تمسخرو استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرات سے بڑھ کر کوئی جرات ہے ؟ (انی جزیتھم الیوم بما صبرو) میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمہاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے‘ حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔ (انھم ھم الفائزون) ” بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں۔“ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے : (فالیوم الذین امنو من الکفار یضحکون) (المطففین (34/83;” آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔ “ (قل) اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہوگا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انہوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے ان نیکیوں کا کتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں۔ (کم لبثتم فی الارض عدد سنین۔ قالو البثنا یوما او بعض یوم ) ” تم زمین میں کتنے برس رہے‘ وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔“ ان کا یہ کلام‘ ان کے دنیا میں رہنے اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعین کرتی ہے اس لیے وہ کہیں گے۔ (فس ٤ ل العادین) یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کردینے والے عذاب میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا : (ان لبثتم الا قلیلا) ” نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔“ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمہارے لیے برابر ہے۔ (لو انکم کنتم تعلمون ) ” کاش تمہیں علم ہوتا۔