سورة المؤمنون - آیت 90

بَلْ أَتَيْنَاهُم بِالْحَقِّ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

بلکہ ہم تو ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور یقینا یہی جھوٹے [٨٧] ہیں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر (90) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ ہم ان جھٹلانے والوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں جو خبر میں صدق اور امرو نہی میں عدل کو متضمن ہے۔ ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہیں کرتے حالانکہ حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے؟ ان کے پاس جھوٹ اور ظلم کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو حق کا بدل بن سکے‘ اس لیے فرمایا : (و انھم لکذبون) ” اور وہ سخت جھوٹے ہیں۔ “ (ما اتخذ اللہ من و لد و ما کان معہ من الہ ) ” اللہ کی کوئی اولاد ہے نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔“ یعنی یہ سب جھوٹ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے آگاہ فرمایا ہے اور جسے عقل صحیح خوب پہچانتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے دو معبودوں کے متنع ہونے پر عقلی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ چنانچہ فرمایا : (اذا) اس وقت۔“ یعنی اگر ان کے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوں (لذھب کل الہ بما خلق) یعنی دونوں معبود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے پر غالب آنے کے لیے اپنی اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتے۔ (ولعلا بعضھ ’ م علی بعض) ” اور ایک‘ دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔“ پس جو غالب ہوتا وہی معبود ہوتا۔ اس قسم کی کھینچا تانی میں وجود کائنات کا باقی رہنا ممکن نہیں تھا اور نہ اس صورت حال میں کائنات کے اس عظیم انتظام کا تصور کیا جاسکتا ہے جسے دیکھ کر عقل حیرت میں گم ہوجاتی ہے۔ اس کا اندازہ سورج‘ چاند‘ ایک جگہ قائم رہنے والے ستاروں اور سیاروں کے درمیان باہمی نظم کو دیکھ کر کرو ! جب سے ان کو پیدا کیا گیا ہے یہ ایک خاص ترتیب اور ایک خاص نظام کے مطابق چل رہے ہیں‘ اس بے کراں کائنات کے تمام سیارے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مسخر ہیں‘ اس کی حکمت تمام مخلوق کی ضروریات و مصالح کے مطابق ان کی تدبیر کرتی ہے‘ ان میں کوئی ایک دوسرے پر منحصر نہیں۔ آپ اس نظام کاہنات میں‘ اس کے کسی ادنیٰ سے تصرف میں بھی کوئی خلل دیکھیں گے نہ تناقض اور تعارض۔ کیا دو معبودوں کے انتظام کے تحت اس قسم کے نظام کا تصور کیا جاسکتا ہے ؟ (سبحن اللہ عما یصفون ) ” اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔“ یہ تمام کائنات اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے اور اپنی مختلف اشکال کے ذریعے سے سمجھا رہی ہے کہ اس کی تدبیر کرنے والا‘ الٰہ ایک ہے جو کامل اسماء و صفات کا مالک ہے تمام مخلوقات‘ اس کی ربوبیت و الوہیت میں اس کی محتاج ہے۔ جس طرح اس کی ربوبیت کے بغیر مخلوقات کا کوئی وجود ہے نہ اس کی کوئی دوام‘ اسی طرح صرف اسی کی عبادت اور صرف اسی کی اطاعت کے بغیر مخلوقات کے لیے کوئی صلاح ہے نہ اس کا کوئی قوام۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک نمونے کے ذریعے سے اپنی صفات مقدسہ کی عظمت کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے اور وہ ہے اس کا علم محیط‘ چنانچہ فرمایا : (علم الغیب) یعنی وہ تمام واجبات‘ مستحیلات اور ممکنات کو جاننے والا ہے جو ہماری نظروں اور ہمارے علم سے اوجھل ہیں (والشھادۃ) اور وہ ان امور کو بھی جانتا ہے جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ (فتعلی) وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے (عما یشرکون) ” ان ہستیوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔“ کہ جن کے پاس کوئی علم نہیں سواے اس علم کے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔