سورة المؤمنون - آیت 78

وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

وہی تو ہے جس نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل [٧٩] عطا کئے (تاکہ تم سنو، دیکھو اور غور کرو) مگر تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر (78 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتا ہے جو انہیں اس کے شکر اور اس کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دیتی ہیں‘ چنانچہ فرمایا : (وھو الذی انشالکم السمع) ” اور وہی ہے جس نے پیدا کیے تمہارے لیے کان۔“ تاکہ مسموعات کا ادراک کرسکو اور اس طرح تم اپنے دین و دنیا میں فائدہ اٹھا سکو (والابصار) ” اور آنکھیں“ تاکہ مرئیات کا ادراک کرسکو اور اپنے مصالح میں ان سے فائدہ اٹھا سکو۔ (والافئدۃ ) ” اور دل۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل سے نوازاتاکہ تم اس کے ذریعے سے اشیاء کا ادراک کرسکو اور جانوروں سے ممتاز ہوسکو۔ اگر تم سماعت‘ بصارت اور عقل سے محروم ہوجاؤ بایں طور کہ تم بہرے‘ اندھے اور گونگے ہوجاؤ تو تمہارا کیا حال ہو ؟ اور تم کن کن ضروریات اور کون کون سے کمالات سے محروم ہو کر رہ جاؤ؟ کیا تم اس ہستی کا شکر نہیں کرتے جس نے تمہیں ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ تم اس کی وحید اور اطاعت پر قائم رہتے ؟ مگر اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی پے درپے نعمتوں کے باوجود‘ تم اس کا بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ (وھو الذی ذراکم فی الارض) یعنی وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہیں مختلف سمتوں میں زمین کے کناروں تک پھیلایا اور تمہیں زمین کے فوائد اور مصالح حاصل کرنے کی قدرت عطا کی اور زمین کو تمہاری معاش اور رہائش کے لیے کافی کردیا۔ (والیہ تحشرون ) ” اور (مرنے کے بعد) تم اسی کے پاس اکٹھے کئے جاؤ گے“ اور زمین پر تم جس خیر وشر کا ارتکاب کرتے رہے ہو اس کا بدلہ پاؤ گے اور زمین‘ جس پر تم آباد تھے تمہاری خبریں بیان کرے گی۔ (وھو الذی یحی ویمیت) وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے۔ (ولہ اختلاف الیل والنھار) یعنی شب و روز کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا اسی کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے آرام و سکون کے لیے تمہیں دن کی روشنی واپس لا دے ؟ کیا تم دیکھتے نہیں؟ (ومن رحمتۃ جعل لکم الیل والنھار لتسکنو فیہ ولتبتغو من فضلہ ولعلکم تشکرون) (القصص (73/28:” یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم آرام کرسکو اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرسکو اور شاید تم اللہ تعالیٰ کا شکر کرو۔ “ بنابریں یہاں فرمایا : (افلا تعقلون) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے ؟“ کہ تم یہ پہچان سکو کہ وہ ہستی جس نے تمہیں سماعت و بصارت اور عقل جیسی نعمتیں عطا کیں‘ جس اکیلے نے تمھیں زمین پر پھیلایا‘ وہ ہستی جو اکیلی زندگی اور موت پر اختیار رکھتی ہے اور جو اکیلی رات اور دن پر تصرف کرتی ہے‘ یہ بات اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ تم خالص اسی کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں اور ان تمام ہستیوں کی عبادت چھوڑ دو‘ جو کسی قسم کا کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کسی چیز میں تصرف کی مالک ہی ہیں بلکہ وہ ہر لحاظ سے عاجز ہیں اگر تم میں ذرہ بھر بھی عقل ہوتی تو تم کبھی بھی ان کی عبادت نہ کرتے۔