سورة المؤمنون - آیت 63

بَلْ قُلُوبُهُمْ فِي غَمْرَةٍ مِّنْ هَٰذَا وَلَهُمْ أَعْمَالٌ مِّن دُونِ ذَٰلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

بلکہ اس بات سے تو ان کے دل سخت غافل ہیں اور اس غفلت کے علاوہ ان کے اور بھی کئی (برے) اعمال ہیں [٦٤] جو وہ کر رہے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت (63 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے‘ اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت‘ ظلم‘ غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انہیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا : ( آیت واذا قراتن القران) (بنی اسرآئیل : (49,45/7” جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کردیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں۔“ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں۔ (ولھم اعمال من دون ذلک) مگر انکے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ( ھم لھا عملون) ” جنہیں وہ کرنے والے ہیں۔“ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج کئے گئے ہیں۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور غذاب میں منتقل ہوں گے۔ (ولھم اعمال من دون ذلک) مگر انکے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ( ھم لھا عملون) ” جنہیں وہ کرنے والے ہیں۔“ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کینکہ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج کئے گئے ہیں۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔ (حتی اذا اخذنا متوفیھم) یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ( بالعذاب) ” عذاب کے ساتھ“ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گگرفت میں لے لیا اور انہیں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ (اذا ھم یجرون) تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ انہیں ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا (لاتجرو الیوم انکم منا لا تنصرون) ” نہ چیخو چلاؤ آج‘ تم ہاری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔“ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہوگئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔ گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچایا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قد کانت ایتی تتلی علیکم ) ” میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔“ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ( فکنتم علی اعقابکم تنکصون) ” تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے سے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پر جا اترتے ہیں۔ (مستکبرین بہ سمرا تھجرون) ” تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔“ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ (مستکبرین بہ) میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے‘ جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنا بریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں۔ (سمرًا) یعنی جماعت کی صورت میں رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے (تھجرون) یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔ پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو صیت کیا کرتے تھے۔ ( و : قال الذین کفرو لا تسمعوالھذا القران والغوا فیہ لعلکم تغلبون) (حمٓ السجدۃ : (26/41” وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو‘ جب سنایا جائے تو مشور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا : ( ام یقولون تقولہ) (الطور : (33/52” کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ اپ نے یہ قرآن خود گھڑا لیا ہے ؟ “ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پر عذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاددرس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کی زجزو توبیخ کی گئی۔