سورة المؤمنون - آیت 57

إِنَّ الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

(بھلائیاں پانے والے اور اہل وہ لوگ ہیں) جو اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت (57 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنہوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا‘ چنانچہ فرمایا : ( ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقوون) ” بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔“ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انہیں اپنے بارے میں سوء ظن ہے کہ انہوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے‘ انہیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انہیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔ (والذین ھم بایت ربھم یومنون) ” اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔“ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے ’ نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان‘ اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ اس کے خوف‘ اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں۔ زبان جن کی تعبیر کرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غورو فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( ان فی خلق السموت والارض واختلاف الیل والنھار لایت لاولی الالباب) ( اٰل عمران : (190/3” بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق‘ دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ “ (والذین ھم بربھم لا یشرکون) ” اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔“ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں مثلاً غیر اللہ کو معبود بنانا اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں‘ مثلاً ریاء وغیرہ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال‘ اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں۔ (والذین یوتون ما اتوا) ” اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں۔“ یعنی جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں‘ مثلاً نماز‘ زکوٰۃ‘ حج‘ صدقہ وغیرہ (و) اس کے باوجود ( قلوبھم وجلۃ) ” اس کے دل خوف زدہ ہیں۔“ (انھم الی ربھم رجعون) ” اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے وار اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش کئے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔ (اولئک یسرعون فی الخیرا) ” یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں۔“ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انہیں امور میں مصروف ہوتا ہے جو انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انہیں فرصت ملتی ہے‘ اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں وہ اولیاء اللہ‘ اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں‘ چنانچہ فرمایا : (وھم لھا) ” اور وہ اس کے لیے۔“ یعنی بھلائیوں کے لیے ( سبقون) ” دوڑتے ہیں۔“ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں‘ نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہوسکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں‘ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولا تکلف نفسا الا وسعھ) ” یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں۔ (ولدینا کتب ینطق بالحق) ” اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔“ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی‘ اس لیے یہ حق ہے۔ (وھم لا یظلمون) ” اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔“ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔