سورة المؤمنون - آیت 31

ثُمَّ أَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور نسل کو پیدا کیا۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت نمبر 31) نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ،، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ،، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ،، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا،، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آرہے تھے۔ (ان اعبدو اللہ مالکم من الٰہ غیرہ) ،، کہ اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ،، پس تمام انبیاء و مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا ہے۔ بنابریں فرمایا : (افلا تتقون) ” کیا تم (اپنے رب سے ڈرتے نہیں؟“ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو ( وقال الملا من قومہ الذین کفروا وکذبوا بلقاء الاخرۃ واترفنھم فی الحیوۃ الدنیا) یعنی ان کے روساء نے جن میں کفرو عناد ’ زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا ’ اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا (ما ھذا الا بشر مثلکم) ” نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیسا ہی۔“ یعنی تمہاری جنس میں سے (یا کل مما تاکلون منہ و یشرب ما تشربون) ” وہی کچھ کھاتا پیٹا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔“ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے ؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیٹا۔ (ولین اطعتم بشرا مثلکم انکم اذا لخسرون) یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمہاری عقل امری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے۔ یہ بڑی ہی عجیب بات ہے‘ کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کو سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے سے فضیلت بخشی‘ اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہوجائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ( فقالو ابشرا منا واحد نتبعد انا اذا لفی ضلال و سعر) القی الذکر علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر) (القمر : (25-34/54 ” بھالا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے‘ تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی‘ نہیں ! بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔ “ چونکہ انہوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کردیا تھا‘ اس لیے انہوں نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کردیا‘ چنائچہ انہوں نے کہا : (ایعد کم انکم اذا متم وکنتم ترابا و عظا ما انکم محرجون فیھات ھیھات لما توعدون) یعنی تمہارے ریزہ ریزہ ہو کر‘ مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد تمہارے دوبارہ زندہ کئے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمہارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انہوں نے انتہائی کو تائی بینی کا ثبوت دیا اور انہوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلند تر ہے۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا‘ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے‘ اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہوجانے کے بعد‘ دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔ پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے‘ نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے۔۔۔۔ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے۔ چنائچہ فرمایا۔ ( بل عجبو ان جاھم منذر منھم فقال الکفرون ھذا شیء عجیب اذا متنا و کنا ترا با ذالک رجع بعد) (ق 32/5;) ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس‘ انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا‘ تو کافروں نے کہا۔ یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مًٹی ہوجائیں گے۔ ( تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ؔ ( قد علمنا ما تنقص الارض منھم وعندنا کتب حفیظ) (ق (4/50: ” ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔ “ (ان ھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا) “ بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں۔“ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ( وما نحن بمبعوزین) ” اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جْہے گا۔ “ پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انزار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی‘ اس نے کہا : (رب انصرنی بما گذبون) “ اے میرے رب ! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انہوں نے مجھے جھٹلایا۔“ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے‘ ( قال) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا : (عما قلیل لیصبحن ندمین فاحدتھم الصیحۃ بالحق) ” بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے‘ پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق ( عدل) کے ساتھ۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی‘ چنائچہ ایک زبر دست چنگھاڑ نے ان کو آلیا ( فجعلنھم غشاء) یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو‘ ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ فکالو کھشیم المحتظر) (القمر : (31/54” ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہوگئے جسے ٹوٹی ہوئی باڑ“ اور فرمایا : ( فبعد للقوم الظلمین) ” پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ‘ اس کی رحمت سے محرومی‘ اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی ’ فما بکت علیھم السماہ والارض وما کانوا منظرین) (الدخان (29/44;” پس ان پن آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔“ (آیت (42 یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں‘ ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی‘ اس نے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ پھر ان میں پے درپے رسول بھیجے‘ شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ مگر کفر اور تکزیب نافرمان‘ کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا‘ وہ اس کو جھٹلاتے رہے‘ حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔ ( فاتبعنا بعضھم بعضا) “ پس پیچھے لگایا ہم نے بعض کو بعض کے۔“ ہلاک کرنے میں‘ یعنی یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کردیا۔ پس ان میں سے کوئی قوم باقی نہ رہی اور ان کے بعد ان کے گھر اجڑگئے ( و جعلنھم احادیث) ” اور ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا“ جن کو بیان کیا جاتا‘ جو اہل تقویٰ کے لیے عبرت مکذبین کے لیے عقوبت اور خود ان کے لیے عذاب اور رسوائی ہے۔ (فبعد القوم لا یومنون) ” پس دوری ہے اس قوم کے لیے جو ایمان نہیں لاتی۔“ کتنے بد بخت ہیں وہ اور ان کی تجارت کس قدر خسارے کی تجارت ہے۔ (آیت (45 صفحہ 22 بہت عرصے کی بات ہے‘ کسی اہل علم کا قول میری نظر سے گزرا ہے‘ جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں۔۔۔۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت اور تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں پر سے عذاب کو اٹھایالیا‘ یعنی وہ عذاب جو ان کا جڑ سے خامہ کردیتا تھا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف جہاد مشروع کیا۔ معلوم نہیں انہوں نے یہ رائے کہاں سے اخذ کی ہے لیکن جب میں نے ان آیات کو سورۃ القصص کی آیات کے ساتھ ملا کر غور کیا تو میرے سامنے اس کا سبب واضح ہوگیا کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پے درپے ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر فرمایا پھر آگاہ فرمایا کہ اس نے ان قوموں کے بعد حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھجا ان پر تورات نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے راہنمائی تھی اور فرعون کی ہلاکت سے اس نقطہ نظر کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ فرعون نزول تورات سے پہلے ہلاک ہوگیا تھا۔ رہی سورۃ القصص کی آیات‘ تو وہ نہایت واضح ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : ( ولقد اتینا موسیٰ الکتب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی بصائر للناس وھدی ورحمۃ لعلھم یتذکرون) (القصص (43/28” پچھلی قوموں کو ہلاک کردینے کے بعد ہم نے موسٰی کو کتاب سے نوازا‘ لوگوں کے لیے بصیرت‘ ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ شاید وہ نصیحت پکڑیں۔ ” اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغی اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے بعد موسٰی (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت‘ ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل کی گئی ہے۔ شاید وہ آیات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے سورۃ یونس میں ذکر فرمایا ہے : (آیت ثم بعثنا من بعدہ رسلا الی قومھم فجاء و ھم بالبینت فما کانو لیومنوا بما گذبو بہ من قبل گذالک نطبع علی قلوب المعتدین ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ و ھرون) (یونس : (75,74/10” پھر نوح کے بعد ہم نے دیگر رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر جس کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا وہ اب بھی اس پر ایمان نہ لائے ہم اسی طرح حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں‘ پھر ان کے بعد ہم نے موسٰی ( عمران‘ کلیم اللہ) کو بھیجا“ ( واخاہ ھرون) “ اور ( ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ (بایتنا) ” اپنی نشانیوں کے ساتھ۔“ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ( وسلطن مبین) “ اور واضح برہان کے ساتھ۔“ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کرلیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہوجاتی۔ اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے۔ ( ولقد اتینا موسا تسع ایت بینت) (بنی اسرائیل (101/17; ” اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نوکھلی کھلی نشانیاں عطا کیں۔“ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ( فسعل بنی اسرائیل اذا اجاء ھم) “ آپ بنی اسرائیل کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ( وسعل بنی اسرائیل اذا جاھم) “ آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے ! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے“ ( فقال) تو فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ( انی لا ظلنک یموسی سحورا) ( بنی اسرائیل : (101/17” اے موسیٰ ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہو۔“ ( قال لقد علمت ما انزل ھو لاء الا رب السموت والارض بصائر وانی لا ظنک یفرعون مثبورا) ( بنی اسرائیل : (102/17” موسیٰ نے کہا : تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں۔ اے فرعون ! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وجحدو بھا و استیقنتھا انفسھم ظلم و علو) (النمل (14/27“ انہوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( ثم ارسلنا موسیٰ و اخاہ ھرون با یاتنا وسلطن مبین الی فرعون و ملاۂ) ” پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ‘ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔“ مثلاً ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ( فاستکبرون) پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ( وکانو قوما عالین ) “ اور تھے وہ سرکش لوگ۔“ یعنی ان کا وصف غلبہ‘ قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔ (فقالو) انہوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا : ( انومن لبشرین مثلنا) ” کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں؟“ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے۔ اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انہوں نے اسے جھٹلایا دیا ( وقومھما) “ اور ان دونوں کی قوم“ یعنی بنی اسرائیل ( لنا ععبدون) ” ہمری غلام ہے۔“ یعنی وہ پر مشقت کام سر انجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( واض نجینکم) آیت البقرہ : (49/2” یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمہیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔“ پس ہم ان کے متبوع ( پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہوسکتے ہیں؟ ان کے قول کی نظیر نوح (علیہ السلام) کی قوم کا یہ قول ہے ( انومن لک واتبعک الارذنون) ( الشعراء : (111/26” کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔“ ( وما نرک اتبعک الا الذین ھم ارادلنا بادی الرای) ( ھود (27/11 ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انہیں لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور کئے جاتے ہیں۔“ اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے‘ اس لیے فرمایا ( فکذبوھما فکانو من المھلکین) ” پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہوگئے۔“ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ (و لقد اتینا موسیٰ الکتب) ” اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔“ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کر کے اسرائیلی قوم کو موسیٰ (علیہ السلام) کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ (علیہ السلام) کو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کو غالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وکتبنا لہ فی الالواح من کل شیء موعظۃ و تفصیلا لکل شیء) (الاعراف : (145/7 ” اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی“ بنا بریں یہاں فرمایا : ( لعلھم یھتدوں) ” تاکہ وہ ہدایت پائیں۔“ یعنی امرو نہی اور ثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کر کے شاید راہ راست پر گامزن ہوجائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں۔