سورة المؤمنون - آیت 23

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ أَفَلَا تَتَّقُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا (اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو جس کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ کیا تم [٢٦] ڈرتے نہیں؟''

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 23 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح علیہ اسلام کا ذکر کرتا ہے حضرت نوح علیہ اسلام زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، چنانچہ انہوں نے فرمایا : (یقوم عبدوا اللہ) ،، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ ،، یعنی اس کے لئے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں۔ (مالکم من الٰہ غیرہ)، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ،، اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رزاق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ (افلا تتقون) کیا تم ساتھ انوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کردی تھی۔ حضرت نوح علیہ اسلام نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہوگیا۔ (فقالا الملو) پس نوح علیہ اسلام کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کے اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا : (ما ھذا الا بشر مثلکم یرید ان یتفضل علیکم) یعنی یہ محض تمہارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لئے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشواء بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بناء پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمہاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے۔ (قالو) یعنی کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا : (آیت) (ابراہیم : 11,10/14) ،، تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا ہم تمہارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔ ،، پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انہوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا : (ولو شاء اللہ لا نزل ملئکۃ) ،، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کردیتا۔،، یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضہ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کرسکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہوجائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا (ما سمعنا بھذا) یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا۔ (فی ابائنا الاولین) ،، اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔ ،، اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انہوں نے اپنے آباؤ اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطہء علم میں نہیں، اس لئے وہ اپنی لا علمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں۔ اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہوگی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انہیں اپنے رب کی حمد و ثناء اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباؤ اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں۔ کفار نے کہا : (ان ھوا الا رجل بہ جنۃ) یعنی یہ تو مجنون ہے ( فتربصو بہ) یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو (حتی حین) یہاں تک کہ اس کو موت آجائے۔ یہ شبہات جو انہوں نے وارد کئے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کرچکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں۔ پس ان کا یہ کہنا (ما ھذا الا بشر مثلکم یرید ان یتفضل علیکم) ثابت کرتا ہے کہ انہیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حالا میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے۔ (ان ھوا الا رجل بہ جنتہ) کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جب نوح علیہ اسلام نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انہیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو (قال رب انصرنی بما کذابوں) ،، انہوں نے عرض کیا : اے میرے رب ! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔ ،، حضرت نوح علیہ اسلام نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا : (آیت) (نوح : 27/26/71) ،، اے میرے رب ! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہوگی۔ ،، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولقد نادنا نوح فلنعمہ المجیبون) (الصفت : 75/37) ،، نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں۔ ،، (فآوحینا الیہ) ہم نے حضرت نوح علیہ اسلام کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ (ان اصنع الفلک) ،، یہ کہ کشتی تیار کر،، (با عیننا ووحینا) یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے، تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں۔ (فاذا جاء امرنا) ،، پس جب ہمارا حکم آجائے۔ ،، جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ (وفار التنور) یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتی کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔ (فاسلک فیھا من کل زوجین ثنین) تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ (واھلک) یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ (الا من سبق علیہ القول) ،، سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔ ،، جیسے حضرت نوح علیہ اسلام کا بیٹا۔ (والاتخاطبنی فی الذین ظلمو) یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں، کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہوچکا ہے کہ انہیں غرق ہونا ہے۔ (فاذا استویت انت ومن معاک علی الفلک) یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہوجاؤ اور کشتی سر کش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرو۔ (فقل الحمد للہ الذی نجنا من القوم الظلمین) ،، اور کہو ! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔،، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح علیہ اسلام اور اس کے اصحاب کے لئے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں۔ (وقل رب انزلنی منزلاً مبرکا و انت خیر المنزلین) یعنی تمہیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمہیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ اسلام کی دعا سن لی اور فرمایا : (وقضی الامرو واستوات علی الجودی وقیل بعداً للقوم الظالمین) (ھوا 44/115) ،، اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جو دی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔،، اور فرمایا : (قیل ینوح اھبط بسلمہ منا و برکت علیک علیک و علیٰ اممہ ممن معاک) (ھو 48/11:5) ،، کہا گیا اے نوح ! اتر جا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں۔،، (ان فی ذالک) بلا شبہ اس قصہ میں (لا یت) ،، نشانیاں ہیں۔ ،، جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح علیہ اسلام سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انہیں ان کے باپ حضرت نوح علیہ اسلام کی صلب میں، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولقد ترکنھا ایتہ فھل من مدکر) (القمر : 15/54) ،، ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ ،، اسی لئے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ (و انا کنا لمبتلین) ،، اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں۔،،