سورة المؤمنون - آیت 21

وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهَا وَلَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نیز تمہارے لئے چوپایوں میں بھی عبرت کا سامان ہے، جو کچھ ان کے بطنوں میں ہوتا ہے اس میں سے ایک چیز (دودھ) ہم تمہیں پلاتے [٢٤] ہیں اور ان سے تمہیں اور بھی بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی [٢٥] ہو۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت نمبر 21) (وان لکم فی الانعام لعبرۃ) یعنی یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے مویشوں، یعنی اونٹوں، گایوں اور بکریوں کو مسخر کیا۔ اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور فائدہ اٹھانے والوں کے لئے فوائد ہیں۔ (نسقیکم مما فی بطونھا) ،، پلاتے ہیں ہم تمہیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے۔،، یعنی دودھ، جو گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے جو خالص اور پینے والوں کے لئے نہایت خوشگوار ہے۔ (ولکم فیھا منافع کثیرۃ) یعنی ان کی پشم، اون اور بالوں میں تمہارے لئے بہت سے فائدے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کے چمڑے سے تمہارے لئے خیمے بنائے جنہیں تم اپنے سفر اور پڑاؤ کے دوران (استعمال میں) بہت ہلکا پاتے ہو۔ (ومنھا تاکلون) یعنی تم ان کے گوشت اور چربی سے حاصل شدہ بہترین کھانے کھاتے ہو۔ (وعلیھا وعلیٰ الفلک تحمکون) ،، اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو۔ ،، یعنی خشکی پر تم ایک شہر سے دوسرے شہر تک ان جانوروں پر اپنے بوجھ لاد کرلے جاتے ہو جہاں تم سخت مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، اسی طرح سمندر میں تمہارے سفر کے لئے کشتیاں بنائیں جو تمہیں اور تمہارے سامان کو، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اٹھائے پھرتی ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں، جس نے مختلف انواع کے احسانات کئے ہیں اور جس نے اپنی نوازشوں کی بارش کی، وہی کامل شکر، کامل حمد و ثناء اور عبودیت میں پوری کوشش کی مستحق ہے اور وہ اس چیز کی بھی مستحق ہے کہ اس کی نعمتوں سے اس کی نافرمانی پر مدد نہ لی جائے۔ آ