سورة المؤمنون - آیت 12

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست [١١] سے پیدا کیا۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر 12 اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطوار اور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جد امجد آدم علیہٗ اسلام کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ (من سللۃ من طین) ،، اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔ ،، جو کہ تمم زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنا بریں حضرت آدم علیہ اسلام کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں۔ (ثمہ جعلنہ) ،، پھر ہم نے اس کو بنایا،، یعنی جنس آدم علیہ اسلام کو (نطفۃ) ،، نطفہ،، جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا (فی قرار مکین) ،، ایک محفوظ جگہ میں۔ ،، اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔ ثمہ خلقنا النطفۃ) ،، پھر بنایا ہم نے نطفے کو،، جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا۔ (علقۃ) ،، لوتھڑا،، یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کردیا۔ (فخلقنا العلقۃ) ،، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو،، یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو (مضفۃ) ،، گوشت کا ٹکڑا،، یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جاسکتا ہے۔ (فخلقنا المضغۃ) ،، پھر بنایا نرم بوٹی کو،، (عظماً) ،، ہڈیاں،، یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جو کہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں۔ (فکسونا العظمہ لحماً) یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سر انجام پاتا ہے۔ (ثمہ انشانہ خلقاً اخر) ،، پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں۔ ،، اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ (فتبرک اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ (احسن الخالقین) ،، وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے۔،، (آیت) (المسجدۃ : 9-8136) ،، جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر سے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔،، انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق، بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم) (التین : 4/90) ،، ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے،، اس لئے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں۔ (ثمہ انکم بعد ذلک) یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد (المتیون) یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہو گے۔ (ثمہ انکم یوم القیمتہ تبعثون) ،، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔،، پھر تمہیں تمہارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (آیت) (القیمۃ : 40-32-85) ،، کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا، کیا وہ مٹی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دو قسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے؟،، (