سورة الحج - آیت 77

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۩

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور نیک کام کرو تاکہ تم کامیاب [١٠٧] ہو سکو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 77 اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو نماز کا حکم دیتا ہے اور اس نے رکوع و سجود کا، ان کی فضیلت اور ان کے رکن نماز ہونے کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ نماز اس کی عبادت ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور غمزدہ دل کے لئے تسلی ہے۔ اس کی ربوبیت اور بندوں پر اس کا احسان ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ عبادت کو اس کے لئے خالص کریں۔ نیز اللہ تعالیٰ عمومی طور پر ان کو بھلائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فلاح کا انہی امور سے وابستہ کیا ہے، چنانچہ فرمایا : (لعلکم تفلحون) یعنی تم اپنے مطلوب و مرغوب کے حصول اور ناپسندیدہ اور خوفناک امور سے نجات پانے میں کامیاب ہوجاؤ گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور اس کے بندوں کو نفع پہنچانے کی کوشش کے سوا، فلاح کے حصول کا کوئی راستہ نہیں۔ جسے اس راستے کی توفیق حاصل ہوگئی اسی کے لئے کامیابی، سعادت اور فلاح ہے۔ (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ) ” اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسے جہاد کا حق ہے۔“ مقصود و مطلوب کے حصول میں پوری کوشش کرنا جہاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد، جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔۔۔. یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو پوری طرح نافذ کیا جائے، مخلوق کو ہر طریقے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دی جائے۔ خیر خواہی سے، تعلیم، قتال اور تادیب سے، زجر و توبیخ یا وعظ و نصیحت کے ذریعے سے اس مقصد کے لئے جس طریقے اور ذریعے کی بھی ضرورت ہو، اسے اختیار کیا جائے۔ (ھو اجتبکم) یعنی اے مسلمانوں کے گروہ ! اس نے تمہیں لوگوں سے چن لیا ہے اور تمہارے لئے دین کو منتخب کر کے اسے تمہارے لئے پسند کرلیا ہے، تمہارے لئے افضل ترین کتاب اور افضل ترین رسولٓ کو منتخب کیا، اس لئے جہاد کو اچھی طرح قائم کر کے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نوازش کا بدلہ دو۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ) سے بسا اوقات کسی متوہم کو یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ ایسا حکم ہے جس کی تعمیل طاقت سے باہر ہے یا جس کی تعمیل میں سخت مشقت ہے، اس لئے اس وہم سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا : (وما جعل علیکم فی الدین من حرج) ” اور نہیں کی اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی۔“ یعنی مشقت اور تنگی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دین کو انتہائی آسان اور سہل بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف انہی امور کا حکم دیا ہے، جس کو بجا لانا نفوس انسانی کے لئے نہایت سہل ہے جو ان کے لئے گراں بار ہیں نہ تھکا دینے والے ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی ایسا سبب پیش آجائے جو تخفیف کا موجب ہو تو اللہ تعالیٰ اس حکم کو ساقط کر کے یا اس میں کمی کر کے اس میں تخفیف کردیتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے ایک شرعی قاعدہ اخذ کیا جاتا ہے اور وہ ہے (المشآ تجلب التیسیر) ” مشقت اپنے ساتھ آسانی لے کر آتی ہے“ (الضرورات تبیح المحظورات) ” ضرورت ممنوع چیز کو مباح کردیتی ہے۔“ بہت سے فروعی احکام اس قاعدہ کے تحت آتے ہیں جن کا ذکر احکام کی کتابوں میں معروف ہے۔ (ملٓ ابیکم ابرھیم) یعنی مذکورہ دین اور احکام تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہیں جن پر وہ ہمیشہ عمل پیرا رہے، اس لئے تم بھی ان کا التزام کرو اور ان پر عمل پیرا رہو۔ (ھو سمکم المسلمین من قبل) یعنی اس نے کتب سابقہ میں تمہارا نام ” مسلم“ رکھا ہے اور اسی نام سے تم مذکور و مشہور ہو یعنی ابراہیم (علیہ السلام) ہی نے تمہارا نام ” مسلم“ رکھا ہے۔ (وفی ھذا) اور اس کتاب اور اس شریعت میں بھی تمہارا نام ” مسلم“ ہی ہے یعنی قدیم اور جدید زمانے میں تمہیں ” مسلم“ کے نام ہی سے پکارا جاتا رہا ہے۔ (لیکون الرسول شھیدا علیکم) تاکہ رسول تمہارے اچھے اور برے اعمال کی گواہی دیں۔ (وتکونوا شھداء علی الناس) تم انبیاء و رسل کے حق میں ان کی امتوں کے خلاف گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو کچھ نازل فرمایا تھا انہوں نے اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا کیونکہ تم بہترین، معتدل، بھلائی کے راستے پر گامزن اور امت وسط ہو۔ (فاقیمو الصلوٰٓ) نماز کو اس کے تمام ارکان، تمام شرائط وحدود اور اس کے تمام لوازم کے ساتھ قائم کرو۔ (واتوالزکوٓ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں جن نعمتوں سے نوازا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے زکوٰٓمفروضہ ادا کرو۔ (واعتصمو اباللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ اور اس بارے میں صرف اسی پر بھروسہ کرو اور اپنی قوت و اختیار پر اعتماد نہ کرو۔ (ھومولکم) ” وہی تمہارا مولیٰ ہے“ جو تمہارے تمام امور کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ پس وہ بہترین طریقے سے تمہاری تدبیر، اور بہترین اندازے سے تم میں تصرف کرتا ہے۔ (فنعم المولی و نعم النصیر) ” پس کیا اچھا مولیٰ اور کیا اچھا مددگار ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی سرپرستی کرتا ہے تو وہ بہترین سرپرست ہے۔ پس اس سے اس کا مطلوب و مقصود حاصل ہوجاتا ہے اور جو کوئی اپنی مصیبت دور کرنے کے لئے اس سے مدد مانگتا ہے تو وہ بہترین مددگار ہے، اس سے اس مصیبت کو وہ دور کردیتا ہے۔