سورة الحج - آیت 75

اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اللہ (پیغام رسانی کے لئے) فرشتوں میں سے بھی رسول [١٠٤] چن لیتا ہے اور لوگوں میں سے بھی۔ بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 75 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا کمال اور بتوں کی کمزوری اور عجز بیان کرنے کے بعد، نیزیہ کہ وہی معبود برحق ہے۔۔۔. انبیاء و رسل کا حال بیان کیا ہے اور ان کے وہ امتیازی فضائل بیان کئے جن کے ذریعے سے وہ دیگر مخلوق سے ممتاز ہیں، تو فرمایا : (اللہ یصطفی من الملءآ رسلا و من الناس) یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا ہے جو اپنی نوع میں بہترین فرد اور صفات مجد کے سب سے زیادہ جامع اور منتخب کئے جانے کے سب سے زیادہ اہل اور مستحق ہوتے ہیں۔ پس رسول علی الاطلاق مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور جس ہستی نے ان کو رسالت کے منصب کے لئے منتخب کیا ہے وہ اشیاء کے حقائق سے لاعلم نہیں یا وہ ایسی ہستی نہیں کہ وہ کچھ چیزوں کا علم رکھتی ہو اور کچھ چیزوں سے لاعلم ہو بلکہ ان کو منتخب کرنے والی ہستی، سمیع و بصیر ہے جس کے علم اور سمع و بصر نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے، اس لئے اس نے اپنے علم ہی کی بنیاد پر ان لوگوں کو اپنی رسالت کے لئے منتخب کیا ہے۔ وہ اس منصب کے اہل ہیں اور وحی کی ذمہ داری سونپے جانے کے لئے یہ صحیح لوگ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ) (الانعام : ٦ /٤٢١) ” اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ رسالت کسے عنایت فرمائے۔“ (والی اللہ ترجع الامور) ” اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجتا ہے وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں، کچھ لوگ ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ لوگ ان کی دعوت کو رد کردیتے ہیں، کچھ لوگ ان کی لائی ہوئی وحی پر عمل کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ پس یہ تو ہے رسولوں کی ذمہ داری اور ان کا وظیفہ۔ اور رہی ان اعمال کی جزا و سزا تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ پس وہ اس جزاء و سزا میں فضل و کرم کا اہتمام بھی کرے گا اور عدل و انصاف کا بھی۔