سورة الحج - آیت 61

ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں [٩٠] داخل کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سنتا دیکھتا ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 61 وہ اللہ جس نے تمہارے لئے یہ اچھے اور انصاف پر مبنی احکام مشروع کئے ہیں، اپنی تقدیر اور تدبیر میں بہترین طریقے سے تصرف کرتا ہے، جو (یولج الیل فی النھار) رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ پس وہ دن کے بعد رات کو اور رات کے بعد دن کو لاتا ہے اور وہ ان دونوں میں سے ایک کو بڑھاتا اور دوسرے میں اسی حساب سے کمی کرتا رہتا ہے، پھر اس کے برعکس پہلے میں کمی کرتا ہے اور دوسرے کو بڑھاتا ہے۔ پس دن رات کی اس کمی بیشی پر موسم مترتب ہوتے ہیں اور اسی پر شب و روز اور سورج چاند کے فوائد کا انحصار ہے، جو بندوں پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہیں اور یہ مختلف مواسم ان کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ (وان اللہ سمیع) ” اور اللہ سننے والا ہے۔“ بندوں کی زبان کے اختلاف اور ان کی مختلف حاجات کے باوجود وہ ان کی چیخو پکار میں ہر ایک کی بات سنتا ہے۔ (بصیر) ” دیکھنے والا ہے۔“ وہ رات کی تاریکی میں، ٹھوس چٹان کے نیچے، سیاہ چیونٹی کو چلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ (سواء منکم من اسرا القول و من جھر بہ و من ھو مستخف بالیل و سارب بالنھار) (الرعد : ٣١/٠١) ” تم میں سے کوئی شخص خواہ بلند آواز سے بات کرے یا آہستہ اور کوئی رات کے اندھیروں میں چھپا ہوا ہو یا دن کے اجالے میں چل رہا ہو اس کے لئے سب برابر ہے۔ “ (ذلک) یہ حکم اور احکام والی ہستی (بان اللہ ھو الحق) وہ ثابت ہے جو ہمیشہ سے ہے، وہ زائل ہونے والی نہیں، وہ ” اول“ ہے اس سے پہلے کچھ نہ تھا وہ ” آخر“ ہے اس کے بعد کچھ نہیں، وہ کامل اسماء و صفات کا مالک، وعدے کا سچا، اس کا وعدہ حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کا دین حق ہے، اس کی عبادت حق، نفع مند اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ (وان ما یدعون من دونہ) اور اس کے سوا تم جن بتوں اور جمادات و حیوانات میں سے خود ساختہ خداؤں کو پکارتے ہو (ھوالباطل) وہ فی نفسہ باطل ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے کیونکہ یہ ایسی ہستی سے متعلق ہے جو مضمحل اور فانی ہے، لہٰذا وہ بھی اپنے باطل مقصد کی بنا پر باطل ہے۔ (وان اللہ ھو العلی الکبیر) وہ فی ذاتہ بلند ہے، اس لئے وہ تمام مخلوقات سے بلند ہے، وہ عالی قدر ہے، اس لئے وہ اپنی صفات میں کامل ہے، وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے، وہ اپنی ذات اور اسماء و صفات میں بلند ہے۔ یہ اس کی عظمت و کبریائی ہے کہ قیامت کے روز زمین اس کے قبضہٓ قدرت میں اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔ یہ اس کی کبریائی ہے کہ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر محیط ہے، یہ اس کی کبریائی ہے کہ تمام بندوں کی پیشانیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ اس کی مشیت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتے۔ وہ اس کے ارادے کے بغیر حرکت کرسکتے ہیں نہ ساکن ہوسکتے ہیں۔ اس کی کبریائی کی حقیقت کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی مرسل۔ ہر صفت کمال و جلال، اور عظمت و کبریائی اس کے لئے ثابت ہے۔ اس کی یہ صفت کامل ترین اور جلیل ترین درجے پر ہے۔ یہ اس کی کبریائی ہے کہ زمین و آسمان والوں سے صادر ہونے والی عبادات کا مقصد وحید اس کی تعظیم و کبریائی کا اقرار اور اس کے جلال و اکرام کا اعتراف ہے، بنا بریں تکبیر تمام بڑی بڑی عبادات مثلاً نماز وغیرہ کا شعار ہے۔