سورة الحج - آیت 49

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

آپ ان سے کہئے : لوگو! میں تو تمہارے لئے (برے انجام سے) صاف صاف [٧٧] ڈرانے والا ہوں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 49 اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰ ٓ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر کہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں، اہل ایمان کو ثواب کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں اور ظالموں کو اس کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں (مبین) یعنی واضح طور پر ڈرانے والے ہیں۔ ” انذار“ سے مراد ایسا ڈرانا ہے جس میں اس امر سے بھی خبردار کیا گیا ہو جس سے ڈرانا مقصود ہے کیونکہ آپ نے جس امر سے ان کو ڈرایا، اس کی صداقت پر روشن اور واضح دلائل قائم کئے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس انداز اور تبشیر کی تفصیل بیان فرمائی (فالذین امنوا و عملوا الصلحت لھم مغفآ) ” اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لئے مغفرت ہے۔“ یعنی ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے۔ (ورزق کریم) اس سے مراد جنت ہے، یعنی رزق کی اقسام میں بہترین قسم، جو تمام فضائل کی جامع اور تمام کمالات سے بڑھ کر ہے۔ آیت کریمہ کا حاصل معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گھر کر گیا اور پھر ایمان صادق بن گیا۔۔۔. اور اس ایمان کے ساتھ انہوں نے نیک کام بھی کئے، ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان گناہوں کی مغفرت ہے جو ان سے واقع ہوگئے تھے اور ان کے لئے جنت میں بہترین رزق ہوگا اور یہ رزق تمام فضائل و کمالات کا جامع ہوگا (والذین سعوا فی ایتنا معجزین) ” وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“ یعنی جو بزعم خود اللہ تعالیٰ کی آیات کو نیچا دکھانے کے لئے بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اسلام کے خلاف ان کی سازش کامیاب ہوجائے گی۔ (اولئک) ” یہی لوگ“ جو آیات الٰہی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے سے متصف ہیں۔“ (اصحب الجحیم) ” جہنمی ہیں۔“ یعنی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور ہر وقت وہیں رہیں گے۔ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی نہ لمحہ بھر کے لئے یہ درد ناک عذاب ان سے ہٹایا جائے گا۔ حاصل معنی یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں اور بزعم خود اہل ایمان کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی مخالفت اور ان سے دشمنی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنا مقصد حاصل کرلیں گے، یہ لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔